شہر میں آر ٹی سی خدمات کا ختم ستمبر تک فیصلہ، احتیاطی اقدامات کو یقینی بنانے پر زور
حیدرآباد۔ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کے نواحی اور مضافاتی علاقوں میں طویل مسافتی بس خدمات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے شہر حیدرآباد میں بس خدمات کے آغاز کے سلسلہ میں جاریہ ماہ کے اواخر میں فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے لیکن آر ٹی سی کی جانب سے شہر حیدرآباد کے اطراف کے مضافات کے لئے چلائی جانے والی بس خدمات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے ساتھ بس خدمات کو بھی روک دیا گیا تھا اور مرکزی حکومت کی جانب سے رعایات کے اعلان کے بعد اضلاع کے لئے بس خدمات کا آغاز کیا گیا تھا لیکن شہر حیدرآباد میں اب بھی بس خدمات کو شروع نہیں کیا جاسکا ہے اور کہا جار ہاہے کہ جلد ا س سلسلہ میں حکومت کی جانب سے فیصلہ کئے جانے کے بعد آرٹی سی کی جانب سے بس خدمات کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا جائے گا لیکن آر ٹی سی نے ادارہ کو درپیش صورتحال اور معاشی نقصانات کے پیش نظر شہر حیدرآباد کے اطراف طویل مسافت پر چلائی جانے والی بسوں کا آغاز کردیا ہے لیکن بس کے سفر کے دوران تمام رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے ماسک کے لزوم کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنایا جائے گا۔طویل مسافتی بسوں کے آغاز کے سلسلہ میں آرٹی سی عہدیدارو ںکا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات اور دی گئی اجازت کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جارہاہے کہ طویل مسافت پر بسوں کو چلانے سے نقصان میں کمی واقع ہوگی جبکہ شہر کی سڑکو ںپر بس خدمات کے آغاز سے آر ٹی سی پر اضافی بوجھ عائد ہوگا کیونکہ شہر حیدرآباد کی ٹریفک سے جو صورتحال پیدا ہوگی اس کے سبب ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہونے لگے گا اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں فوری بس خدمات کے آغاز کے بجائے طویل مسافتی بس خدمات کو بحال کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں کے دوران شہر حیدرآباد میں بھی بس خدمات کے آغاز کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایاجائے گا تاکہ عوام کو حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ذرائع حمل و نقل کی سہولت کو بحال کیا جاسکے۔ شہر حیدرآباد میں بس کے سفر کو ہجوم سے پاک رکھنے کے علاوہ مسافرین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کو یقینی بنانا آرٹی سی کی ترجیحات میں شامل ہے۔