معاشرہ کی موجودہ حالات میں نوجوانوں کی اصلاح وقت کا تقاضہ

   

محمد اسد علی (ایڈوکیٹ )
موجودہ پرآشوب دور میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں۔ اقتدار کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ملک میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور عام شہری کے حالات بھی افسوسناک ہوچکے ہیں۔ کردار کا بگڑنا ایک عام بات ہے جو ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ سرزمین دکن جہاں تہذیب و تمدن اپنے عروج پر تھے، وہیں پر حالات آپے سے باہر ہوچکے ہیں۔ سیاست دان سے لے کر معاشرہ تک ہر شخص نفسانفسی کے عالم میں ہے۔ سیاست داں عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں اور دن رات جمہوریت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کیونکہ ان کا مفاد اسی میں ہے۔ عوام کے کردار بالخصوص نوجوانوں کے کردار میں گراوٹ ایسے ہی نام نہاد سیاست دانوں کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے، کیونکہ یہ لوگ یہی سبق دے رہے ہیں کہ جب تک اپنی زندگی ہے، سب کچھ اپنا ہے اور اس طرح سے خودغرضی کی تعلیم عام کی جارہی ہے۔ اگر آنکھ کھول کر معاشرہ کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ بیشتر نوجوان خودغرضی کی زندہ مثال بن چکے ہیں۔ وہ قائدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف خود ستائی کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور بڑھاپے میں اولاد ، اُن کا سہارا بننے کی بجائے افسوسناک اور شرمناک مثال بن گئے ہیں۔ جب تک بچوں کو ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت تک وہ ماں باپ کیلئے بظاہر سب کچھ کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں، لیکن جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے تصور میں ماں باپ بس ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اولاد ، ضعیف والدین کی خدمت سے انجان ہوجاتی ہے۔ اولاد کا یہ سلوک والدین کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور جان لیوا ہوتا ہے۔ خاص طور پر شادی کے بعد ان کا رویہ والدین کے ساتھ بالکل تبدیل ہوجاتا ہے اور ان کا جھکاؤ مائیکہ کی طرف ہوتا ہے اور بچوں کو بھی دادا، دادی سے دُور کردیا جاتا ہے اور والدین سے قطع تعلق کرتے ہوئے انہیں بوجھ اور ناکارہ سمجھتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سی لڑکیاں نہ صرف ماں باپ بلکہ بھائی بہنوں میں بھی پھوٹ پیدا کردیتی ہیں اور حتی کہ بھائی بہنوں کو اس قدر ایک دوسرے کے خلاف کردیتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی صورت بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ بعض لڑکیاں اچھی ہوتی ہیں اور سسرال میں گھل مل کر رہتی ہے لیکن بہت سی لڑکیاں جو شادی کے بعد شوہر کو ماں باپ سے جدا کردیتی ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ہمارے لئے تمہارے ماں باپ ایک پریشان کن مسئلہ ہے لہٰذا ان سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ہی پرسکون زندگی گذاری جاسکتی ہے۔ ایسے بہت سی مثالیں ہیں کہ شادی کے بعد لڑکے اپنے والدین کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پرآسائش زندگی گذارتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ والدین کی دیکھ بھال ان کا فریضہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بعض نوجوان اپنے ضعیف والدین کا سہارا بننے کے بجائے انہیں طعنے دیتے رہتے ہیں اور ضعیفی میں انہیں ناکارہ سمجھتے ہیں اور گھر کے کسی کام کاج کے معاملے میں ان سے مشورہ نہیں لیا جاتا بلکہ انہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے جس سے ان کو شدید تکلیف پہونچتی ہے۔ شادی کے بعد لڑکی کو صرف شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ شوہر کے ماں باپ کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے اور شوہر پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ انہیں علیحدہ گھر میں رکھے لیکن شوہر کے انکار پر بیوی ناراض ہوکر مائیکہ چلی جاتی ہے اور بعد میں شوہر، والدین اور اس کے بھائی بہنوں کے خلاف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراتی ہے اور کونسلنگ میں شوہر کے ساتھ رہنے کیلئے انکار کرتے ہوئے صرف پیسوں کا ڈیمانڈ کیا جاتا ہے۔ فیملی کورٹ میاں بیوی کے کیسیس سے بھرا ہوا ہے جہاں پر شوہر کے ساتھ رہنے کی بات نہیں کی جاتی بلکہ انہیں صرف اور صرف پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں شادی کو ایک فیشن بنادیا گیا ہے۔ شادی کرو، کیسے کرو اور لڑکے والوں سے لاکھوں روپئے بٹورنے کا ایک طریقہ عروج پر ہے اور بہت سے لڑکے جو بیوی کی اندھی تائید کرتے ہوئے والدین کو برا بھلا کہتے ہیں اور اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں، والدین ایسی اولاد سے تنگ آکر اپنی موت کی دعا مانگنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اسلام میں ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے، لیکن موجودہ دور کے نوجوانوں کو اس بات کی ذرا برابر پرواہ نہیں اور وہ کسی نہ کسی بہانے سے ماں باپ کو غلط ٹھہراتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان کا رشتہ صرف بیوی اور بچوں سے ہے، وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ایسا بھی وقت آتا ہے جب وہ خود ضعیف ہوجاتے ہیں اور انہیں بھی ان کے والدین کی طرح ، خدمت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسی باتوں پر آج توجہ نہیں دی جارہی ہے اور یہ سمجھا جارہا ہے کہ ان کی زندگی ہمیشہ ایسے ہی رہے گی۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ماں باپ کی زندگی میں ہی ان کی خدمت کی جائے اور بیوی کی باتوں میں آکر والدین کو اُف نہ کہے، ورنہ قیامت کے دن اللہ کے پاس جوابدہ ہونا پڑے گا۔