معاشرے کی اصلاح وقت کی ضرورت

   

ہمارے معاشرے میں جو بگاڑ آچکا ہے اس کی کوئی حد نظر نہیں آتی ۔ بداخلاقی ، بدگمانی ، بے ایمانی ، اناپرستی اور نہ جانے کیا کیا ہمارے معاشرے میں پنب رہا ہے ۔ اگر آج اس کو روکا نہ گیا اس کی اصلاح نہ کی تو آنے والے دنوں میں جو ہوگا اس کیلئے الفاظ کا ملنا م شکل ہوجائے گا ۔ کیا بچہ کیا بوڑھا کیا جوان سبھی جھوٹ ، بداخلاق ، بے ایمانی کے مرتب ہورہے ہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ گالی گلوج عام خاص ہوگیا ہے ۔ بچے تو خیر بچے ہی ہے انہیں جو ماحول دیا جاتا ہے وہ انہیں میں ڈھل جاتے ہیں قصور تو بڑے بزرگوں کا ہے جو وہ کرتے ہیں وہی بچے اپناتے ہیں ۔ سب سے پہلے غصہ کو قابو میں رکھیں کیونکہ یہی فساد کی جڑ ہوتا ہے غصہ میں کیا گیا فیصلہ اکثر نقصان دے جاتا ہے ۔ جب غصہ قابو سے باہر ہوجاتا ہے تو انسان اچھے اور بُرے کی تمیز نہیں کر پاتا اور بداخلاقی پر اُتر آتا ہے اور یہیں سے جھگڑے کی ابتداء ہوتی ہے ۔ ہمارے اسلام میں بداخلاقی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ہمارے نبیؐ نے اپنی زندگی میں اخلاق کے وہ نمونے پیش کئے ہیں جو تاقیامت راہ مشعل بن کر ہمارے زندگیوں کو سنوارتے رہیں گے ۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ا پنے زندگیوں میں اس کو جگہ دیں ۔ قیامت کے روز اُس انسان کا پڑلہ سب سے بھاری ہوگا جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہونگے ۔ ہمارے نبیؐ کے ساتھ کافروں نے کیا کیا سلوک نہ کیا ۔ آپ پر پتھر برسائے ، آپ پر طنز کے تیر چلائے ، بدسلوکی کی گئی آپ کی دل آزاری کی گئی پھر بھی آپ نے مسکراکر بس کچھ برداشت کیا ۔ اگر اپ چاہتے تو لمحوں میں کفار نیست و نابود ہوجاتے لیکن مقصد آپ کا بدلہ لینا نہیں تھا ۔ آپ معاف کردیا کرتے تھے ۔ انسان کے اخلاق میں اگر سدھار آجائے تو خود بخود بے ایمانی ، جھوٹ ، بدگمانی ، اناپرستی ختم ہوجائے گی ۔ آج معاشرے میں ایسا ماحول بن گیا ہے کہ کوئی بھی انسان صبر کی کوشش نہیں کرنا چاہتا ہے جبکہ صبر ایک ایسی جنگ ہے جس میں ہمیشہ جیت ہوتی ہے ، پھر کیوں ہم مسلمان صبر اور اخلاق سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ جھوٹ تو جیسے تکیہ کلام ہوگیا ہے ہر چھوٹی سی چھوٹی بات پر جھوٹ بول دیا جاتا ہے یہ سونچے بنا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ۔ ہاں کبھی کبھی سچ کی بہت بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی ہے لیکن یہ سوچ کر ہم صرف جھوٹ پر اکتفا نہیں کرسکتے ۔ ہمارے معاشرے میں بدلاؤ آنا بے حد ضروری ہے ۔ اگر آج ہم اس بات کو نظرانداز کریں گے تو آنے والی نسلیں ساری حدیں پار کردے گی ۔ معاشرے میں بگاڑ کے ہم خود ذمہ دار ہیں اور سدھار بھی ہمیں کو لانا ہے ۔