معین آباد کے متاثرہ خاندان سے ہنمنت راؤ کی ملاقات

,

   

شخصی طور پر مالی امداد فراہم کی، خاطی کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ
حیدرآباد: سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے آج معین آباد پہنچ کر کمسن لڑکی کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور شرمناک واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا۔ ہنمنت راؤ نے عصمت ریزی اور قتل کا شکار کمسن لڑکی کے افراد خاندان کو اپنی جانب سے 10,000 روپئے کی رقمی امداد حوالے کی ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ایکس گریشیا ، سرکاری ملازمین اور ڈبل بیڈروم مکان کے لئے جدوجہد کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے متوفی لڑکی کے والدین اور بہن سے واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس لیڈر مدھو یادو نے غریب خاندان کا استحصال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی لعنت سے ریاست میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ کیا ہے، جب تک نشہ بندی نافذ نہیں کی جاتی ، اس وقت تک جرائم پر کنٹرول ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمسن لڑکی کے قتل کے ذمہ دار شخص کو پھانسی کی سزا ہونی چاہئے جبکہ متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ، ڈبل بیڈروم مکان اور متوفی کی بہن کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندان معاشی مسائل کا شکار ہے۔ ہنمنت راو نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کے کسی نمائندہ نے آج تک متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرتے ہوئے خاطی کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ہنمنت راؤ نے صدر مجلس اسد اویسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اتر پردیش میں عصمت ریزی کے ایک واقعہ کے خلاف اسد اویسی نے ٹوئیٹ کیا لیکن معین آباد کے واقعہ پر وہ خاموش ہیں۔ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والی لڑکی پر ظلم ہوا لیکن مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی کو متاثرہ خاندان کے ساتھ چیف منسٹر سے ملاقات کرنی چاہئے تاکہ ایکس گریشیا منظور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سے دوستی کے نتیجہ میں مسلم خاندان پر ظلم کے باوجود اسد اویسی خاموش ہیں۔ اترپردیش کے واقعہ پر مذمت کے ساتھ ساتھ معین آباد کے واقعہ کے خلاف اظہار خیال کرنا چاہئے ۔ معین آباد دراصل حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کا حصہ رہ چکا ہے اور یہاں کے رائے دہندے اسد اویسی کو ووٹ دیئے ہیں۔ انہیں اپنے رائے دہندوں کی فکر کرنی چاہئے ۔