مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق سے بھیمؤثر تعلقات کا خواہاں ہوں: اردغان

   

انقرہ: ترکیہ کے صدر طیب اردغان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ان کا ملک مشرقی دنیا کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کی حکمت عملی جاری رکھے گا۔اس سلسلے میں ‘ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم دونوں سے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ اہل مغرب کے ساتھ بھی معاملات چلتے رہیں گے۔واضح رہے ترکیہ امریکی قیادت میں ‘متحد نیٹو الائنس’ کا بھی حصہ ہے۔ وہ انقرہ میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ محور کی تبدیلی کے ایشو پر بحث میں شریک تھے۔وہ کہہ رہے تھے ترکیہ کو طاقت کے نئے مراکز کے ساتھ بھی خود کو جوڑنا ہو گا۔تاکہ معاشی شعبے کے علاوہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعاون و ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔