مقننہ امور میں عدلیہ کی مداخلت پر مباحث ضروری، منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کی دستور میں کوئی مہلت نہیں

   

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر اپوزیشن رکن کا انتخاب،بی آر ایس کے الزامات مسترد:سریدھر بابو
حیدرآباد۔/10ستمبر، ( سیاست نیوز) وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر رکن اسمبلی اے گاندھی کا انتخاب قواعد کے مطابق کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بی آر ایس کی تنقیدوں کو مسترد کردیا۔ سی ایل پی آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ پی اے سی کے صدرنشین کے عہدہ پر اپوزیشن رکن کو نامزد کرنے کی روایت ہے اور اسپیکر نے بی آر ایس کے رکن اے گاندھی کو صدرنشین مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے داخلی اختلافات سے حکومت کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسپیکر پرساد کمار نے قانون کے مطابق ہی کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین اسپیکر کے عہدہ کی توہین کررہے ہیں اور انہیں اسپیکر کے عہدہ کا احترام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انحراف کے مسئلہ پر بی آر ایس قائدین من مانی بیانات دے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے چناؤ میں صفر نتیجہ کے باوجود بی آر ایس قائدین کا دماغ ٹھکانے پر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے محرومی سے بوکھلاہٹ کا شکار بی آر ایس قائدین اسپیکر اور حکومت کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ گذشتہ دس برسوں میں جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے والے آج اداروں کے تحفظ کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے بھٹی وکرامارکا کو قائد اپوزیشن کے عہدہ سے محروم کرنے کی سازش کی تھی۔ اس کے علاوہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کا عہدہ کانگریس پارٹی کو نہیں دیا گیا۔ سریدھر بابو نے کہا کہ کانگریس حکومت دستور کے مطابق کام کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سابق میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے اُکسانے والے کون ہیں۔ جن لوگوں نے انحراف کی حوصلہ افزائی کی تھی آج وہی انحراف کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور اور اسمبلی قواعد کے مطابق اسپیکر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کا تقرر کیا اور اسپیکر کے فیصلہ میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے گاندھی کے بی آر ایس رکن ہونے کے مسئلہ پر خود بی آر ایس قائدین میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ منحرف ارکان کے بارے میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ وہ عدالت میں زیر التواء امور پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ عدالت کا ہم مکمل احترام کرتے ہیں اور عدالت نے کسی کارروائی کا واضح طور پر حکم نہیں دیا ہے۔ چار ہفتوں میں سماعت کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ مقننہ کے امور میں عدلیہ کی مداخلت کے بارے میں مباحث جاری ہیں۔ دستور کے 10 ویں شیڈول کے مطابق منحرف ارکان کے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوئی مہلت مقرر نہیں ہے۔ 1