نئی دہلی: ہندوستانی ہندو نوجوان سے آن لائن دوستی اور پھر عشق کے بعد پاکستان سے فرار ہوکر ہندوستان آنے والی نوجوان لڑکی کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ ایک پاکستانی شہری جس نے سرحد پار کرکے ایک ہندوستانی لڑکے سے شادی کی تھی جس سے وہ محبت کرتی تھی، اسے واپس وطن بھیج دیا گیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 19 سالہ اقرا جیوانی کا کوئی مشتبہ یا مجرمانہ پس منظر نہیں ہے وہ صرف اپنے عاشق ملائم سنگھ یادو سے شادی کرنے کے لیے سرحد پار آئی تھی۔23 جنوری کو بیلندور پولیس نے اسے یادو کے ساتھ گرفتارکیا تھا۔ یہ لڑکی پاکستان میں حیدرآباد کی رہائشی ہے ۔ اقرا کا آن لائن گیم لڈو کے ذریعے یادو سے تعارف ہوا۔ وہ محبت میں گرفتار ہوگئے اور شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقرا اپنے والدین کو بتائے بغیر نیپال میں کھٹمنڈو چلی گئی۔ وہ بہارکے بیرگنج سرحدکے راستے ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ دونوں28 ستمبر 2022کو بنگلورو پہنچے تھے اور سرجاپور روڈ کے قریب جناسندرا میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی تھی۔ یادو نے پاکستانی لڑکی کا آدھارکارڈ روا یادو کے نام سے بنوایا تھا اور پاسپورٹ کے لیے درخواست بھی دی تھی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے پاکستان میں اس کے والدین کا سراغ لگایا اور مقامی پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس ٹیم نے اقرا اور ملائم سنگھ یادوکو گرفتارکیا اور انہیں فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس ( ایف آر آر او) کے سامنے پیش کیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ اقراکو اٹاری واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اقرا اور ملائم دونوں کا کوئی مجرمانہ یا مشکوک پس منظر نہیں ہے۔ جانچ مقامی پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے کی تھی۔ لڑکی نے اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں چار سال تک رشتے میں تھے۔ جب حکام نے اسے پاکستان روانہ کرنے کی تیاری شروع کی تو اقرا نے واپس جانے سے انکار کردیا۔ پولیس ذرائع نے انکشاف کیا کہ اس نے حکام سے درخواست کی کہ اسے ملک بدر نہ کیا جائے۔ نوجوان خاتون نے دعویٰ کیا کہ چونکہ اس نے ایک ہندوستانی سے شادی کی ہے، اس لیے اسے اس کے ساتھ یہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ حکام نے اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے رابطہ کیا تھا اور اس عمل میں تقریباً دو ماہ لگے اور لڑکی کو پاکستان واپس روانہ کردیا گیا۔