ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل کا امتحان

   

عوام کے نام چیف منسٹر کا جذباتی مکتوب، بی جے پی اور بی آر ایس سے مضبوط امیدواروں کا امکان

حیدرآباد۔/3 مارچ، ( سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات میں ملکاجگیری نشست چیف منسٹر ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل کیلئے اہمیت کی حامل بن چکی ہے۔ کانگریس حلقوں میں اس بات کو لے کر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا ملکاجگیری حلقہ ریونت ریڈی کو سیاسی طور پر مستحکم کرے گا یا پھر یہ حلقہ ان کے لئے کانگریس میں نقصاندہ ثابت ہوگا۔ ریونت ریڈی نے 2018 اسمبلی چناؤ میں کوڑنگل اسمبلی حلقہ سے 2019 میں ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔ لوک سبھا چناؤ میں کامیابی کے بعد ریونت ریڈی قومی سطح پر متعارف ہوئے اور انہوں نے کانگریس ہائی کمان سے اپنے روابط کو مضبوط کیا۔ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ سے استعفی دے دیا۔ مجوزہ لوک سبھا چناؤ میں ریونت ریڈی کیلئے ملکاجگیری حلقہ سیاسی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ریونت ریڈی نے راہول گاندھی سے روابط کو استوار کیا اور پردیش کانگریس کمیٹی کا عہدہ حاصل کرلیا۔ ہائی کمان سے ریونت ریڈی کی قربت ملکاجگیر لوک سبھا حلقہ کی دین سمجھا جاتا ہے۔ اسی حلقہ نے انہیں چیف منسٹر کے عہدہ تک پہنچایا۔ ملک کے سب سے بڑے لوک سبھا حلقہ ملکاجگیری میں رائے دہندوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ بتائی گئی ہے۔ عوام سے اپنے جذباتی رابطہ کو برقرار رکھنے کیلئے ریونت ریڈی نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفی کے وقت کھلا مکتوب جاری کیا تھا جس میں انہوں نے حلقہ اور اس کے عوام کیلئے دل میں خصوصی جگہ ہونے کی بات کہی تھی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ریونت ریڈی ملکاجگیری میں مضبوط امیدوار کی تلاش میں ہیں تاکہ سیاسی طور پر مستقبل میں کوئی نقصان نہ ہو۔ ریونت ریڈی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ملکاجگیری کے نتیجہ پر منحصر رہے گا۔ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ریونت ریڈی کے چیف منسٹر بن جانے کے بعد کانگریس کا موقف مستحکم ہوا ہے۔ بی جے پی نے سابق وزیر ایٹالہ راجندر کو امیدوار بنایا ہے جبکہ بی آر ایس کی جانب سے سابق وزیر ملاریڈی کے فرزند بھدرا ریڈی کو امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے۔ بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے مینم پلی ہنمنت راؤ اور چیف منسٹر کے بھائی کونڈل ریڈی اس نشست کے اہم دعویداروں میں شامل ہیں۔1