جدوجہد آزادی میں بی جے پی کا وجود نہیں، حقیقت پر مبنی بیان سے بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار
حیدرآباد۔/21 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے بی جے پی اور سنگھ پریوار سے متعلق کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے بیان کی مکمل تائید کی ہے اور بی جے پی کی جانب سے کھرگے کے خلاف بیان بازی کی مذمت کی ہے۔ نائب صدر پردیش کانگریس ڈاکٹر ملو روی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد آزادی میں بی جے پی اور اس کی حمایتی تنظیموں کی عدم موجودگی سے متعلق کھرگے کے حقیقت پسندانہ بیان سے مرکزی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حقیقت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کھرگے سے معذرت خواہی کے مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بی جے پی جدوجہد آزادی کے وقت موجود نہیں تھی۔ بی جے پی آج جن قائدین کو قومی ہیرو کے طور پر پیش کررہی ہے انہوں نے انگریزوں سے معذرت خواہی کی تھی۔ ملکارجن کھرگے کے بجائے بی جے پی کو معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ ملک کی جدوجہد آزادی میں کانگریس کا رول ناقابل فراموش ہے۔ ملک کے اتحاد اور یکجہتی کیلئے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اپنی جان کی قربانی پیش کی۔ مرکز میں برسراقتدار آنے کے بعد جمہوریت پر حملے ہورہے ہیں۔ ملکارجن کھرگے کو ربر اسٹامپ صدر قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے ملو روی نے کہا کہ کھرگے نے 8 مرتبہ اسمبلی اور 3 مرتبہ پارلیمنٹ کیلئے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی وزیر کے علاوہ کرناٹک میں سی ایل پی لیڈر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لوک سبھا کے قائد اپوزیشن رہے اور اب راجیہ سبھا میں اپوزیشن قائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سی سی صدر کے عہدہ کے لئے ملکارجن کھرگے نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی قیادت میں ہماچل پردیش میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا۔ ایسی شخصیت کو ربر اسٹامپ کہنا مضحکہ خیز ہے۔ بی جے پی میں نریندر مودی اور امیت شاہ کے علاوہ تمام قائدین اور وزراء ربر اسٹامپ ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اپنی آبائی ریاست ہماچل پردیش میں پارٹی کو شکست سے نہیں بچاسکے۔ ملو روی نے کہا کہ چونکہ کھرگے کا تعلق دلت طبقہ سے ہے لہذا انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ر