یو اے پی اے قانون کے تحت کارروائیوں میں اُترپردیش سر فہرست
حیدرآباد 4 ۔ اگسٹ (سیاست نیوز) مرکزی حکومت اپنے سیاسی حریفوں اور نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کے خلاف انسداد غیرقانونی سرگرمیوں کیلئے موجود UAPA قانون کا استعمال کررہی ہے ! مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ UAPA کا بھی استعمال سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے ہونے لگا ہے اور اس قانون کے نام پر مخالف حکومت نظریات کے حامل افراد میں خوف پیدا کیا جا رہاہے۔مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سال 2018 سے 2021کے درمیان UAPAکے تحت 4690 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اور ان میں سے اکثر گرفتار شدگان جیلوں میں بند ہیں۔راجیہ سبھا میں پیش تفصیلات کے مطابق سال 2018 میں 1421 افراد کو اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس سال کے دوران محض 35 افراد کو یو اے پی اے کے تحت مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا اسی طرح سال 2019 کے دوران 1948 افراد کو اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا جن میں 34 افراد کو ہی سزاء دلوانے میں کامیابی ملی ہے ۔اسی طرح سال 2020میں 1321 نوجوانوں کو UAPAکے تحت گرفتار کیا گیا ہے جن میںمحض 80 نوجوانوں کو مجرم ثابت کرکے سزاء دلوائی جاسکی ہے۔مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق ملک بھر کی تمام ریاستوں میں UAPAکے تحت گرفتاریوں میں اترپردیش سر فہرست ہے جہاں مجموعی اعتبار سے تین برسوں میں 1338 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دوسرے نمبر پر منی پور ہے جہاں اس مدت کے دوران 943 افراد کو UAPA کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔تیسرے نمبر پر جموں و کشمیر ہے جہاں سال 2018تا2020 کے دوران مجموعی اعتبار سے 750 افراد کو اس کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بارہا یہ الزامات عائد کئے جا تے رہے ہیں کہ حکومت مخالف حکومت نظریات کو مخالف قوم اور مخالفت قوم نظریات کے طور پر پیش کرتے ہوئے معصوم اور بے قصور افراد کے خلاف UAPAکا استعمال کررہی ہے تاکہ ان میں خوف پیدا ہو۔ م