ملک میں اب چاول پر پڑے گی مہنگائی کی مار

   

نئی دہلی : دنیا کے بازاروں میں چاول کی کمی مہنگائی کو مزید بڑھانے کی طرف اشارہ دے رہی ہے۔ اس بحران کی وجہ ہے ملک کیکچھ علاقوں میں کم بارش کے سبب دھان کی بوائی میں کمی۔ ملک میں گزشتہ تین سالوں میں دھان کی زراعت کا بوائی علاقہ سب سے کم ہو گیا ہے۔ دراصل ہندوستان چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے، ایسے میں یہاں دھان کی بوائی کم ہونے سے چاول کی پیداوار کم ہوگی اور اس کا اثر گھریلو بازار کے ساتھ ساتھ ان ممالک پر بھی پڑے گا جہاں ہندوستان چاول برآمد کرتا ہے۔پیداوار کم ہونے سے اس کی قیمتیں بھی بے تحاشہ بڑھ سکتی ہیں۔ اس کےآثار تو کچھ ریاستوں میں دکھائی بھی دینے لگے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق چاول کی پیداوار پر خطرہ ایسے وقت میں منڈلا رہا ہے جب دنیا بھر کے ملک خوردنی اشیاء کی لگاتار بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ہندوستان میں اس سال اب تک دھان کی بوائی میں 13 فیصد تک کی کمی آ چکی ہے اور اس کی وجہ ہے ملک کے کچھ حصوں، خصوصاً بنگال اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں کم بارش ہونا۔ قابل ذکر ہے کہ صرف دو ریاستیں ہی مل کر ملک میں تقریباً ایک چوتھائی چاول کی پیداوار کرتی ہیں۔چاول تاجروں کا ماننا ہے کہ ملک میں اس کی کم پیداوار جہاں مہنگائی کے ساتھ لڑائی کو کمزور کرے گی وہیں ہمیں برآمدات پر پابندی لگانے کیلئے مجبور بھی کرے گی۔