گجرات میں خاتون کو نیا وائرس لاحق ہونے سے تشویش، شہریوں کو مستقبل کے امکانی حالات سے نمٹنے اور اخراجات پر قابو پانے کی ضرورت
حیدرآباد۔21۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے ساتھ معاشی ابتری کی صورتحال پیدا ہونے اور گرانی میں زبردست اضافہ ہونے کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران اگر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں دواخانوں میں ایک مرتبہ پھر سے بستروں کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔چین ‘ جاپان‘ امریکہ کے علاوہ برازیل وغیرہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم BF.7 کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی اطلاعات اور ملک میں الرٹ جاری کئے جانے کے دوسرے ہی دن ریاست گجرات کے شہر بروڈہ میں 61سالہ خاتون کے نئے قسم کے کورونا وائرس سے متاثرہ پائے جانے کے بعد تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے ٹیکہ لینے والوں کے علاوہ ٹیکہ لینے سے گریز کرنے والوں کوبھی اس نئی قسم کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں بالخصوص مسلمانوں کو مستقبل میں پیدا ہونے والے امکانی حالات سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی تیار کرنے اور اپنے اخراجات پر قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کی لہر کی صورت میں جو حالات پیدا ہوں گے ان حالات سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ معاشی و تجارتی نقصانات کا بھی اندیشہ ہے کیونکہ اگر دوبارہ کورونا وائرس کے قواعد عائد کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں بازاروں میں سرگرمیاں متاثر ہونے لگ جائیں گی اور کاروبار ایک مرتبہ پھر سے ٹھپ ہوسکتے ہیں اسی لئے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اپنے بینک میں رقومات جمع رکھنے کے علاوہ کسی بھی طرح کی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اگر ابتدائی رفتار سے اضافہ ہوتا ہے اور دواخانوں میں بستروں کی قلت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حالات سنگین ہوجائیں گے اور معاشی حالات کو سنبھالنا حکومت کے لئے مشکل ہوجائے گا اور حکومت کی جانب سے جوسابق میں مراعات فراہم کئے گئے تھے ان میں سے کوئی مراعات کا احیاء کیا جانا ممکن نہیں ہوگا۔کوروناوائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی صورت میں اس کے پہلے اثرات معیشت پر مرتب ہوں گے اور ان اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے مسلمانوں کو زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشی اعتبار سے کمزور قوم کومعاشی طور پر ہونے والے نقصانات انتہائی سنگین حالات کاشکار بنا سکتے ہیں۔ 2020 میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے ساتھ ہی جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اور غریب عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھااس وقت مخیر اور متمول افراد کی جانب سے فوری طور پر ان کے لئے راحت کاری اور امدادی کاموں کا آغاز کیا گیا تھا لیکن دوسری لہر کے دوران امدادی و راحت کاری کاموں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور جن تنظیموں اور اداروں کی جانب سے کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں کے لئے راحت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے تھے وہ بھی ممکن نہیں ہوپائے اور شہریوں کو دوسری لہر کے دوران سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ اور ملک کی کئی ریاستوں میں اب بھی کئی ایسے خاندان موجود ہیں جو کورونا وائرس کی پہلی لہر کے اثرات سے نکل نہیں پائے ہیں ۔ غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ اگر کورونا وائرس کی نئی قسم شدت اختیار کرتی ہے تو وہ فوری طور پر راحت کاری کاموں کے آغاز کے موقف میں نہیں ہیں اور پہلی اور دوسری لہر کے دوران راحت کاری و امدادی کاموں میں پائے جانے والے فرق کے سلسلہ میں تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جو صورتحال پیدا ہوئی تھی وہ اچانک پیدا ہونے والے حالات تھے اسی لئے مخیر شہریوں اور متمول خاندانوں کے علاوہ ہر کسی کو ایک دوسرے کا خیال رہنے لگا تھا لیکن دوسری لہر سے قبل حکومت اور سرکاری اداروں کی جانب سے متنبہ کیا جانے لگا تھا اور جب لا ک ڈاؤن اور تحدیدات عائد کئے گئے تو ایسی صورت میں مستحقین کو بھی امداد حاصل نہیں ہوپائی اور بتدریج حالات ابتر ہونے لگے تھے۔ ان حالات کے بعد اب جبکہ حالات میں کسی حد تک سدھار آنے لگا تھا اور بازاروں میں گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے علاوہ رقمی لین دین و معاملتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے ایسے میں دوبارہ یہ کہا جا رہاہے کہ آئندہ ماہ جنوری‘ فروری اور مارچ کے دوران کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے اسی لئے شہریوں بالخصوص مریضوں کو امکانی صورتحال سے محفوظ رہنے کے لئے خود کو معاشی طور پر مستحکم رکھنے کے علاوہ وبائی امراض سے محفوظ رہنے کے لئے پر ہجوم مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہئے اور ممکنہ حد تک ماسک کے استعمال کے ساتھ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔م