ملک میں گوشت کا استعمال ، مجموعی پیداوار میں پولٹری میٹ عوام کی ترجیح

   

بھینس اور بھیڑ بکریوں کے گوشت کی قابل لحاظ پیداوار ، بیف ایکسپورٹ میں ہندوستان کی اہم حصہ داری
حیدرآباد ۔20 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں نان ویجیٹرین غذاؤں کا استعمال کرنے والے عوام کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں مختلف جانوروں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور علاقائی اعتبار سے گوشت کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق ملک میں میٹ پروڈکشن کا 49.3 فیصد حصہ پولٹری میٹ ہے۔ ہندوستان میں گوشت کی پیداوار کا تقریباً نصف پولٹری سے تعلق رکھتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گوشت کے استعمال کے معاملہ میں پولٹری میٹ عوام کی اولین ترجیح ہے۔ ماہرین کے مطابق پولٹری میٹ بآسانی دستیاب ہونے کے علاوہ قیمت میں بھی دیگر جانوروں کے گوشت سے کم ہے۔ سروے میں پولٹری انڈسٹری کی ترقی کو عوام کی استعمال میں ترجیح سے مربوط کیا گیا ہے۔ ملک میں گوشت کی پیداوار اور استعمال میں بھینس کا گوشت 18.4 فیصد پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بڑے جانور کے گوشت کے ایکسپورٹ میں بھی حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان کا بیف خلیجی ممالک میں کافی پسند کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیف ایکسپورٹ کمپنیوں کی اکثریت غیر مسلم تاجروں کی ہے۔ سروے کے مطابق ملک میں گوشت کی مجموعی پیداوار میں بکرے کا گوشت 15.1 فیصد ہے جبکہ بھیڑ (Sheep) کے گوشت کی پیداوار 11.3 فیصد درج کی گئی ہے۔ خنزیر کے گوشت کی پیداوار4 فیصد درج کی گئی جبکہ بھینس کے علاوہ دیگر مویشی جن میں بیل شامل ہیں، ان کے گوشت کی پیداوار 2 فیصد درج کی گئی۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں گاؤکشی کے ساتھ ساتھ بیل کے کاٹنے پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں بیف کے کاروباری زیادہ تر بھینس کے گوشت کی تجارت کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق ہندوستان سے میٹ ایکسپورٹ میں بھینس کا گوشت دوسرے نمبر پر ہے۔ گھریلو استعمال کے سلسلہ میں بھیڑ بکریوں کے میٹ کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ملک کی معیشت کے استحکام میں پولٹری ، میٹ اور بیف انڈسٹری میں اہم رول ادا کیا ہے۔1/k/a/b