ملک کو ہندو راشٹر بننے میں واحد رکاوٹ کانگریس کا وجود

   

بی جے پی کی فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ ووٹ بینک میں اضافہ کی کوشش
حیدرآباد۔3۔مئی۔(سیاست نیوز) ملک کو ہندوراشٹر بننے کی میں واحد رکاوٹ کانگریس کا وجود ہے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔بی جے پی ملک کے شہری علاقوں میں اپنی مقبولیت میں اضافہ کے علاوہ فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کر نے کی کوشش کررہی ہے جبکہ کانگریس ملک کے دیہی علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو روکا جاسکے ۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی بی جے پی کی مقبولیت اور فرقہ وارانہ منافرت کا اندازہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابی نتائج سے لگایا جاسکتا ہے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے 2 کارپوریٹر ہوا کرتے تھے اس بلدیہ میں بی جے پی نے 40 سے زائد امیدواروں کو کامیاب کروایا ہے۔ شہر حیدرآباد میں بی جے پی کو حاصل ہونے والی اس مقبولیت کو بطور مثال بی جے پی قائدین ریاست بھر میں پیش کرنے لگے ہیں اس صورتحال میں کانگریس کے استحکام کے ذریعہ ہی بی جے پی کو روکنا ممکن ہوگا۔ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کی اقتدار والی ریاستوں اور کانگریس کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ جات میں کانگریس کو کمزور کرنے کے لئے کوشش کرر ہی ہے جبکہ ملک کے عوام جو مہنگائی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں وہ دیہی علاقوں میں سیکولر یا علاقائی جماعتوں کے بجائے راست کانگریس کو مستحکم کرنے کی بات کر رہے ہیں جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے ارادوں بالخصوص ملک کو ہند راشٹر میں تبدیل کرنے کے منصوبہ میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس ہونے لگی ہے موجودہ صورتحال میں اگر شہری علاقوں کے عوام کی جانب سے بھی کانگریس کے ووٹ بینک کو مستحکم کیا جاتا ہے تو بی جے پی کے منصوبہ کو ناکام کیا جاسکتا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے استحکام کے لئے جو کوششیں کر رہی ہے ان میں شہری علاقوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ شہری اضلاع میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے کانگریس اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کو روکا جاسکتا ہے۔ شہری اضلاع میں اگر عوام کی جانب سے متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کئے جاتے ہیں تو اس کا نقصان تلنگانہ راشٹر سمیتی سے زیادہ بی جے پی کو ہوگا کیونکہ بی جے پی جس انداز میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتے ہوئے ووٹ بینک کی تیاری کر رہی ہے اسی طرح تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے بھی مذہبی خطوط پر ووٹ حاصل کرنے کیلئے کوشش کی جانے لگی ہے اور مخصوص طبقہ کو مراعات کے علاوہ ان کے لئے اسکیمات کے آغاز کے ذریعہ انہیں ٹی آر ایس سے قریب کیا جا رہاہے ۔ اکثریتی طبقہ کے ووٹ تلنگانہ راشٹر سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں اور مسلمان متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو کانگریس کو ریاست میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں مستحکم کیا جاسکتا ہے۔م