ملک کے تعلیمی نظام میں ریفارمرس کی شدید ضرورت

   

ایس آئی او کے اسٹوڈنٹس منشور کی رسم اجرائی ، پروفیسر کودنڈارام و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 4 مارچ ( سیاست نیوز) تلنگانہ تحریک کے علمبردار اور تلنگانہ جنا سمیتی ( ٹی جے ایس) صدر پروفیسر کودنڈارام نے اعتراف کیاکہ ملک کے تعلیمی نظام میں ریفارمرس کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام میںبہتری لانے کے لئے موثر بجٹ کی بھی وکالت کی اور جہاں پر بھی تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے وہاں پر پوری شدت کے ساتھ اس کو انجام دینے کے عزائم کا اظہار کیا۔ پروفیسر کودنڈارام دراصل اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن کے ’’اسٹوڈنٹس منشور‘‘کی رسم اجرائی کے بعد میڈیاسے بات کررہے تھے ۔ اس موقع پر ایس آئی او کے قومی سکریٹری عبداللہ فیض‘ نائب امیر جماعت اسلامی تلنگانہ محمد اظہر الدین کے علاوہ ایس آئی او ریاستی سکریٹری محمد فراز‘ پی آر سکریٹری فیصل خان‘ میڈیا سکریٹری معاذ حیدر‘بھی موجود تھے۔ ایس آئی او نے اپنے اسٹوڈنٹس منشور میںملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مساویانہ تحفظات‘ اور ایک بہتر منصفانہ تحفظات کا نظام جس کے ذریعہ تمام کویکساں مواقع فراہم کئے جائیں ‘ سماجی او رمعاشی طور پر پسماندہ اضلاع پر خصوصی توجہہ ‘متوازن ترقی کے لئے حاشیہ زدہ علاقوں کی ترقی ‘ طلباء کے تحفظات اور انصاف کو یقینی بنانے کے لئے روہت ویمولہ ایکٹ کا نفاذ‘ایم اے این ایف کی بحالی اور اقلیتوں کی اسکالر شپ میںاضافہ‘تعلیم تک مساوی رسائی کے لئے اقلیتی طلباء کو مالی امداد کے لئے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کی بحالی‘امتیازی سلوک سے اور عصبیت سے پاک سماج کے لئے مخالف امتیازی سلوک قانون ‘ شہریوں کے رازداری پر مشتمل ڈیٹا کی حفاظت کے لئے سخت پرسنل ڈاٹا پروٹکشن قانون ‘ ماحولیاتی اقدامات اور سرگرمیوںکے لئے 100کروڑ کا فنڈ وقف کرنا‘نوجوانوں کی ہمہ جہتی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے نوجوانوں کے لئے ملک بھرمیں صحت اور ذہنی تندرستی پر مشتمل مراکز او رکونسلنگ سنٹرس کا قیام ‘پرائمری سے اعلی تعلیم تک تمام طبقہ کے طلبہ کو قابل رسائی مفت تعلیم کا نظام ‘ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے ضمانت روزگار قانون کا نفاذ‘ تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوششوں کو ناکام بنانا‘ ہندوستان کی حقیقی تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کی روک تھام کے لئے سخت قوانین کا نفاذ کی مانگ کی ہے۔ پروفیسر کودنڈارام نے ایس آئی او کے منشور کی تائید کی اورکہاکہ تمام سیاسی جماعتوں سے اس منشور کو اپنی پارٹی کے انتخابی منشور میںشامل کرنے دبائو ڈالیںگے ۔