ممبئی : ایودھیا میں رام مندر کے لیے پران پرستیشٹھا کے موقع پر گزشتہ پیر کو عروس البلاد ممبئی خصوصی طورپرمضافاتی شہر میرا روڈ میں پیش آئے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ اپوزیشن کے سینئر اور سابق وزیر اور کانگریس کے کارگزار صدرعارف نسیم خان اور اپوزیشن لیڑر وجئے وٹیوارنے کیا اور میرا روڑ فرقہ وارانہ تشدد کے معاملہ میں نسیم خان نے اعلی پولیس افسران سے گفتگو کی۔اس درمیان میرا روڈ میں سنگین حالات کا شکار بنے شہریوں میں خصوصاً اقلیتی فرقے میں خوف ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے ، میرا روڈ کے پلاسٹک اشیاء کے ڈیلر عبدالحق (54) نے کہاکہ ہم پولیس سے شکایت کرنے نہیں جا رہے ہیں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ہم صرف قانونی پریشانیوں میں الجھیں گے ،” یہاں 21 جنوری سے بدامنی جاری ہے ۔دراصل اس روز شام، میرا روڈ کے نیا نگر علاقے میں رام مندر پران پرتیشتھا کے جلوس پر مبینہ حملے کو لے کر پہلی بار جھڑپیں شروع ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، عبدالحق کو ان کے بیٹے محمد طارق (21) کا فون آیا کہ ان کی گاڑی پر ہجوم نے حملہ کیا۔اس درمیان نیا نگر سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر شانتی نگر علاقے کے سیکٹر 3 میں پیش آئے اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ۔ گاڑی کے پچھلے حصے پر ‘راشد ٹیمپو سروس’ کا نام پینٹ تھا۔عبدالحق نے کہاکہ یہ پولیس کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے ہوا ہے ۔ انہوں نے (حملہ آوروں) نے محض ایک مسلم نام والی گاڑی دیکھی ہوگی اور اس پر حملہ کیا ہوگا۔ حملہ صرف ہماری گاڑی پر نہیں ہوا تھا۔ اس وقت آس پاس کے کئی آٹو رکشوں پر بھی لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا تھا۔