ممنور ایرپورٹ کی اراضی کی نشاندہی میں کوتاہی

   

ریاستی حکومت کو توجہ دہانی کے باوجود عدم پیشرفت ، مرکزی وزیر کشن ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔27اپریل(سیاست نیوز) ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے ممنور ائیر پورٹ کے لئے اراضیات کی نشاندہی و تخصیص کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا جا رہاہے اور حکومت کی جانب سے اراضیات کی تخصیص کے معاملہ میں کی جانے والی کوتاہی کے سبب ممنور ائیر پورٹ کے ترقیاتی کاموں کے آغاز میں تاخیر ہورہی ہے۔ مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی نے حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ ممنور ائیر پورٹ کے لئے اراضیات کے تخصیص اور ائیرپورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کو حوالگی کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے اور مرکزی حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ممنور ائیر پورٹ کے لئے اراضیات کے متعلق کئی مرتبہ ریاستی حکومت کو متوجہ کروایا جاچکا ہے لیکن ریاستی حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ مسٹر جی کشن ریڈی نے بتایا کہ مرکزی حکومت بھدراچلم مندر کی ترقی اور اسے مذہبی سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لئے تیار ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک پہراجکٹ کی تفصیلات مرکزکو روانہ نہیں کی گئی ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت نے جو گولامبا مندر کی ترقی کے لئے 33کروڑ مختص کئے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے دلتوں اور آدی واسیوں کے علاقوں کی ترقی کے سلسلہ میں بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اسی منصوبہ کے تحت ملوگو میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔مرکزی وزیر سیاحت نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد ریاست تلنگانہ کے ضلع ورنگل کو خصوصی توجہ دہی اور نریندر مودی کی خصوصی توجہ کا نتیجہ ہے کہ مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے ضلع ورنگل کو تہذیبی ضلع کا درجہ دیا ہے ۔انہوں نے ضلع ورنگل میں موجود منادربالخصوص تاریخی 1000 کھمب کی مندر اور رامپا مندر کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے سیاحتی و مذہبی مقامات کے علاوہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کی جانب سے انجام دیئے جانے والے کاموں کو غیر اہم اور نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ریاستی حکومت کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کر رہا ہے۔م