سرینگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز کہاکہ مندر جانے اور بھجن گانے کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ میں ہندو ہوں، ہم اس سے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غلام نبی آزاد نے اُس جماعت کیساتھ وفا نہیں کی جس نے اُسے بنایا ، اُس سے ہم کیا وفا کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ان باتوں کا اظہار انہوںنے سرینگر میں میڈیا سے بات کے دوران کیا۔ ایل جی کی طرف سے استقبالیہ خطبے میں امن، پتھر بازی اور ہڑتال کلینڈروں کے خاتمے کے دعوے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر واقعی حالات میں بہتری آئی ہے ،پتھربازی نہیں ہورہی ہے اور ہڑتال کالیں نہیں دی جارہی ہیں تو پھر ہزاروں کی تعداد میں ہمارے بچے جیلوں میں کیوں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس اور فوج سے لوگوں کو دبانے کو امن کہتے ہیں تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن آئے گا جب یہ آتش فشاں پھٹے گا، تب یہ کیا کریں گے ؟اس لئے میں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ لوگوں کو دبانا بند کریں، جیلوں کے دروازے کھولیں، ہمارے نوجوانوں کو رہا کریں اور اپنی زندگی عزت سے گزارنے کا موقعہ فراہم کیا جائے ، ہم عزت چاہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔[؟] نیشنل کانفرنس قیادت کیخلاف حالیہ دنوں سے جاری گمراہ کُن پروپیگنڈا کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ [؟]ہمارے خلاف جو اس وقت ایک گمراہ کُن پروپیگنڈا چلایا جارہاہے ، اس کی پیچھے کی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مخالفین کو اپنی ہار بخوبی نظر آرہی ہے اور اب وہ تمام حدیں پار کرکے ہر کوئی حربہ اپنانے کی کوشش کررہے ہیں۔