تعلیم یافتہ نوجوانوں میں منشیات کا رجحان باعث تشویش، اسپورٹس کی طرف راغب کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام
حیدرآباد ۔6 ۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور سائبر جرائم پولیس کیلئے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ بڑھتے جرائم پر قابو پانا پولیس کی اہم ذمہ داری ہے اور جرائم کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال اور جرائم کی نوعیت میں تبدیلی دو دھاری تلوار بن چکی ہے۔ چیف منسٹر آل انڈیا پولیس فٹبال چمپین شپ کی اختتامی تقریب سے خدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا رجحان باعث تشویش ہے۔ حکومت نوجوانوں کو اسپورٹس کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ منشیات اور پب کلچر سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قابل اور ذہین طلبہ بھی اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں اور کھیل کے میدان کو چھوڑنا نوجوانوں کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ چیف منسٹر نے پنجاب کا حوالہ دیا جہاں منشیات کا استعمال عروج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نوجوان منشیات کی لعنت میں بڑی حد تک گرفتار ہیں اور تلنگانہ حکومت نے عزم کیا ہے کہ ریاست کو دوسرا پنجاب بننے نہیں دیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ہر شخص کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کنا چاہئے ۔ انہوں نے کہ کہ اگر نوجوان غلط راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہندوستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 1950 اور 1960 کی دہائی میں حیدرآباد کے فٹبال کھلاڑیوں کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ فٹبالر مسی کو حیدرآباد مدعو کیا گیا تاکہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے علاوہ دیگر نوجوانوں کو کھیل کود کی طرف راغب کیا جاسکے۔ 1956 اولمپکس میں ہندوستانی ٹیم میں حیدرآباد کے 7 کھلاڑی شامل تھے اور حیدرآباد کو انڈین فٹبال کی نرسری کہا جاتا تھا۔ اولمپکس میں ہندوستان کے کمزور مظاہرہ کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ 140 کروڑ آبادی کے باوجود ہندوستان ایک گولڈ میڈل حاصل نہیں کرسکا جبکہ جنوبی کوریا کم آبادی کے باوجود 30 سے زائد میڈلس جیت چکا ہے۔ دورہ کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہاں اسپورٹس یونیورسٹی عصری سہولتوں سے آراستہ ہے۔ آنے والے اولمپکس میں میڈلس جیتنے کے مقصد کے ساتھ حکومت نے ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کی جارہی ہے ۔ یونیورسٹی کے بورڈ میں نامور کھلاڑیوں اور صنعت کاروں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس میں نمایاں مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں اور نقد انعامات دیئے جارہے ہیں۔ عالمی باکسنگ چمپین نکہت زرین کو گروپ I آفیسر مقرر کیا گیا اور دو کروڑ روپئے انعام دیا گیا۔ کرکٹر محمد سراج کو عالمی اہمیت میں رعایت دیتے ہوئے ڈی ایس پی مقرر کیا گیا ۔ پیرا اولمپکس میں میڈل جیتنے والی دیپتی جورنگی کو گروپ I عہدہ پر فائز کیا گیا ۔ ٹورنمنٹ میں 34 ٹیموں کے بہتر مظاہرہ پر چیف منسٹر نے مبارکباد پیش کی۔1/K