چار ایم ایل ایز کو 100 کروڑ کی پیشکش، 15 کروڑ رقم کیساتھ بی جے پی کے 3 ایجنٹس گرفتار
حیدرآباد۔/26 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) منوگوڑ ضمنی انتخابات کیلئے رائے دہی کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی جارہی ہے ریاست میں سیاسی اتھل پتھل میں شدت دیکھی جارہی ہے۔ حکمران تلنگانہ راشٹرا سمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ سیاسی ہلچل میں اس آج اس وقت نیا موڑ آیا جب سائبرآباد پولیس نے ٹی آر ایس کے 4 ارکان اسمبلی کو بی جے پی کی جانب سے خریدنے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ اس سلسلہ میں معین آباد کے عزیز نگر میں واقع فارم ہاوس پر سائبرآباد پولیس نے دھاوا کرتے ہوئے 15 کروڑ نقد رقم اور بی جے پی کے 3 ایجنٹس کو گرفتار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹی آر ایس کے 4 ارکان اسمبلی بی ہرش وردھن ریڈی ( کولا پور)، جی بالراجو ( اچم پیٹ )، پائیلٹ روہت ریڈی (تانڈور) اور ریگا کانتا راؤ ( پناپاکا ) نے آج پولیس کمشنر سائبرآباد اسٹیفن رویندرا کو یہ اطلاع دی کہ انہیں بی جے پی کی جانب سے خریدنے کیلئے 100 کروڑ کی پیشکش کی گئی ہے اور پیشگی رقم دینے کیلئے فارم ہاوز میں انہیں طلب کیا گیا ہے۔ اس بات کی اطلاع ملنے پر پولیس سائبرآباد نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے آج اس وقت فارم ہاوز پر دھاوا کرکے بی جے پی کے تین ایجنٹس کو گرفتار کرلیا جن کی شناخت دو پجاریوں فریدآباد کے ستیش شرما، تروپتی کے ڈی سمہیاجی اور سرور نگر کے ساکن نند کمار کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے 15 کروڑ روپئے نقد رقم جسے دو علیحدہ بیاگس میں کاروں میں پوشیدہ رکھا گیا تھا ضبط کرلیا۔ اس دھاوے کے بعد سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی اور پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ضبط شدہ رقم ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کیلئے استعمال کی جانے والی تھی۔ دھاوے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس کمشنر سائبرآباد اسٹیفن رویندرا نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ارکان اسمبلی کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ انہیں بی جے پی کی جانب سے خریدنے کیلئے 100 کروڑ کی پیشکش کے علاوہ بڑے کنٹراکٹس اور اہم عہدوں کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ اس غیر قانونی حرکت کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ تین افراد کو گرفتار کرلیا اور نقد رقم بھی ضبط کرلی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں نند کمار نامی شخص عنبرپیٹ میں واقعہ سٹی پرائیڈ ہوٹل کا مالک ہے اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کا قریبی حامی بتایا جاتا ہے۔ب