منوگوڑ ضمنی چناؤ کے اخراجات کروڑوں میں لیکن دعویٰ لاکھوں کا

   

بی جے پی نے34 لاکھ، کانگریس 28 لاکھ اور ٹی آر ایس 26 لاکھ کے حسابات داخل کئے
حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حال ہی میں نلگنڈہ کے منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس، بی جے پی اور کانگریس کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ کئے گئے لیکن الیکشن کمیشن کو جو اخراجات کی تفصیلات داخل کی گئیں ان میں چند لاکھ روپئے خرچ کا دعویٰ کیا گیا۔ واضح رہے کہ منوگوڑ میں فی ووٹ ووٹر کو 6 تا 10 ہزار روپئے ادا کئے گئے اور بعض مقامات پر تو خواتین کو ایک تولہ سونا دینے کی اطلاعات ہیں۔ حلقہ میں شراب کی تقسیم اور دیگر اخراجات تقریباً 600 کروڑ بتائے گئے لیکن تمام اہم پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کو اخراجات کے بارے میں جو حساب پیش کیا ہے وہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ نلگنڈہ کے الیکشن آفیسر کو امیدواروں نے جو تفصیلات پیش کیں اسکے مطابق کسی بھی امیدوار نے انتخابی خرچ کی حد 40 لاکھ روپئے سے تجاوز نہیں کیا۔ بی جے پی امیدوار کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے 34.75 لاکھ روپئے خرچ کئے جبکہ کانگریس امیدوار پی شراونتی نے 28.96 لاکھ کے خرچ کا حساب پیش کیا۔ ٹی آر ایس کے امیدوار کے پربھاکر ریڈی جنہوں نے کامیابی حاصل کی وہ سب سے کم 26.12 لاکھ کے انتخابی اخراجات کا حساب داخل کیا ہے۔ آزاد امیدوارو ں میں کے اے پال نے سب سے زیادہ 6.79 لاکھ روپئے کا حساب داخل کیا۔ مسلمہ اور رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں میں بہوجن سماج پارٹی کے اے شنکر چاری نے 1311500 روپئے خرچ کئے۔ تلنگانہ جنا سمیتی کے ٹی ونئے کمار گوڑ نے 558483 ، پرجا وانی پارٹی کے وینکٹیشورلو نے 135768 روپئے کا حساب داخل کیا ہے۔ ضمنی چناؤ میں جملہ 47 امیدوار میدان میں تھے۔ الیکشن کمیشن میں داخل کردہ حسابات کے مطابق 13 امیدواروں نے ایک لاکھ سے زیادہ روپئے خرچ کئے جبکہ 24 امیدواروں میں سے 11 نے محض پانچ تا دس ہزار روپئے خرچ کرنے کا حساب پیش کیا۔ر