ایک تولہ سونا ‘ فلائیٹ ٹکٹ ‘ کاریں ‘ موٹر سیکلیںتقسیم کرنے کی تیاریاں۔ رقمی ادائیگی شروع ‘ عوام پر کسی کو بھروسہ نہیں
منوگوڑیا ’’ منی گوڑ ‘‘
ملک کا سب سے مہنگا الیکشن ہوگا
ایک ہزار کروڑ کے خرچ کا امکان
حیدرآباد : /11 اکٹوبر (سیاست نیوز) اسمبلی حلقہ منوگوڑ کے ضمنی انتخاب کیلئے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی /14 اکٹوبر آخری تاریخ ہے ۔ تاہم تینوں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے ۔ یہاں تک قائدین ایک دوسرے پر شخصی الزامات عائد کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔ کل نصف شب کانگریس پارٹی دفتر کو نامعلوم افراد نے آگ لگادی ۔ اتوار کو وزیر لیبر ملاریڈی کی دعوت متنازعہ بن گئی ۔ انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کا اعلان کرنے والے انقلابی شاعر غدر دوبارہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر رہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم سے اندازہ ہورہا ہے کہ منوگوڑ کا ضمنی انتخاب ملک کا سب سے مہنگا ضمنی انتخاب ہوگا ۔ ہر پارٹی مقامی منتخب عوامی نمائندوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنے 10 تا 15 لاکھ روپئے کا نذرانہ پیش کررہی ہیں ۔ سرپنچوں ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان کے علاوہ کونسلرس اور وارڈ ممبرس کی بولیاںلگائی جارہی ہے ۔ تنظیمی سطح کے اہم عہدوں پر مامور قائدین کو بھی موٹی رقم سے نوازا جارہا ہے ۔ پتہ چلا کہ ایک پارٹی نے مقامی قائدین کیلئے 200 بریزا کاریں اور 2000 موٹر سیکلیں بک کروائی ہے ۔ مہاراشٹرا ، کرناٹک ، گجرات اور دوسرے شہروں میں مقیم ووٹرس کو پولنگ کے دن طلب کرنے فلائیٹ ٹکٹ بک کرایا جارہا ہے اور واپسی کیلئے ٹرین ٹکٹ دیا جارہا ہے ۔ انکے دو تین دن قیام کے تمام اخراجات برداشت کئے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ووٹرس کو پرکشش تحائف سے لبھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کھلے عام نقدی تقسیم پر پکڑے جانے کے ڈر سے آن لائن رقم تقسیم ہو رہی ہے ۔ خواتین میں سونا تقسیم کرنے کا وعدہ کیا جارہا ہے ۔ ووٹرس میں فی ووٹ 10 ہزار روپئے تقسیم کیا جارہا ہے ۔ چند جماعتیں ووٹوں کو پکے کرنے اڈوانس رقم تقسیم کررہی ہیں ۔ اب تک پڑوسی آندھراپردیش نندیال کا ضمنی انتخاب مہنگا الیکشن ہونے کا ریکارڈ ہے ۔ لیکن تلنگانہ کا منوگوڑ ضمنی انتخاب سب سے مہنگا الیکشن بنتا جارہا ہے ۔ حضور آباد ضمنی انتخاب میں ایک پارٹی نے جہاں ایک ووٹ کیلئے 6000 روپئے دئے وہیں دوسری جماعتوں نے 3 تا 5 ہزار روپئے دیا ہے ۔ لیکن منوگوڑ میں ایک ووٹ پر 10 ہزار روپئے خرچ کیا جارہا ہے ۔ اس طرح عوام میں یہ تشہیر ہورہی ہے کہ ہر پارٹی 10 ہزار روپئے ایک ووٹ دے گی ۔ اس طرح انہیں 30 ہزار روپئے ملیں گے ۔ ایک پارٹی خواتین میں ایک ووٹ کیلئے ایک تولہ سونا دینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی مسابقتی دوڑ سے منو گوڑ کا نام اب ’منی گوڑ‘ ہوگیا ہے ۔ انتخابی عمل مکمل ہونے تک 1000 کرو ڑ خرچ کا اندازہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ حضور آباد انتخاب میں ایک جماعت نے 500 کروڑ روپئے خرچ کئے وہیں دوسری جماعت نے 150 کرو ڑ روپئے خرچ کئے تھے ۔ شمالی ہند کی 8 ریاستوں کے الیکشن کیلئے جتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے اتنا پیسہ صرف منو گوڑ ضمنی انتخاب پر خرچ ہورہا ہے ۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی مصارف کیلئے 40 لاکھ روپئے کی حد مقرر کی ہے جسے کوئی خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔ ن