زیڈ پی ٹی سی رکن دوباہ پارٹی میں شامل‘دیگر سرپنچوں اور ایم پی ٹی سی ارکان کو پرکشش آفرس
حیدرآباد۔ 12 اکتوبر (سیاست نیوز) جیت کا نشانہ طے کرتے ہوئے انتخابی میدان میں قسمت آزمانے والی حکمران ٹی آر ایس پارٹی نے اسمبلی حلقہ منوگوڑ میں ’’آپریشن گھر واپسی‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔ جو لوگ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں انہیں دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل کرنے کے لئے تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ مقامی قائدین سے نظریاتی اختلافات دوسری جماعتوں سے وصول ہونے والے آفرس سے متاثر ہوکر ٹی آر ایس سے مستعفی ہونے والے مقامی منتخب عوامی نمائندوں کو دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل کرنے کے لئے وزرا، ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دوسرے اہم قائدین سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔ سرپنچ زیڈ پی ٹی سی ارکان تک سب ہی سے دوبارہ بات چیت کی جارہی ہے۔ سودے بازی کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے بعد ٹی آر ایس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کے لئے رضامندی کا اظہار کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس پارٹی میں دوبارہ شامل ہونے والے قائدین کو عہدوں کے ساتھ نقدی پیاکیج اور ضمنی انتخاب کے بعد ان کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام انجام دینے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ اگر کسی کے خلاف پولیس میں کوئی مقدمات ہوں تو اس سے دستبرداری اختیار کرنے کا تیقن بھی دیا جارہا ہے۔ جس پر حال ہی میں ٹی آر ایس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے والے چنڈور زیڈ پی پی ٹی سی رکن کے وینکٹیشم دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ہیں۔ پہلے پارٹی چھوڑنے پر مقامی ٹی آر ایس کارکنوں نے ان کا علامتی ارتھی جلوس نکالا تھا اور وینکٹیشم نے بھی ٹی آر ایس قیادت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر چنڈور ایم پی ٹی سی حلقہ کے انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی دلچسپی سے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے ان سے مشاورت کی اور زیڈ پی ٹی سی رکن کے وینکٹیشم حیدرآباد پہنچ کر کے ٹی آر سے ملاقات کرتے ہوئے دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔ یہ بھی الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ جو ٹی آر ایس چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں انہیں دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ وہ راضی نہ ہونے پر ان کے پرانے مقدمات میں گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک ایم پی ٹی سی رکن کے ساتھ یہی سب کچھ ہوا ہے۔ وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت حاصل کرنے ہائی کورٹ پہنچا۔ ہائی کورٹ میں ناکامی کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے ساتھ گرفتاری سے بچنے روپوش ہوگیا ہے۔ ٹی آر ایس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے والے سرپنچس و ایم پی ٹی سی ارکان کو دوبارہ ٹی آر ایس میں شامل کرنے کیلئے انچارج ارکان اسمبلی سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔ ن