امپھال :منی پور کے دارالحکومت امپھال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر پرجمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایک بڑے ہجوم کے حملے کے بعد فائرنگ میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور خواتین سمیت کئی لوگ زخمی ہو گئے ۔پولیس نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی فورسز نے مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے بھاری فائرنگ کا سہارا لیا۔ بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آج صبح تک آنسو گیس کے گولے داغے گئے ۔جمعرات کو امپھال ویسٹ اور کانگ پوکپی ضلع کے درمیان مسلح شرپسندوں کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ۔ طویل وقت تک فائرنگ کے بعد ایک لاش برآمد ہوئی اور دوسری بعد میں برآمد ہوئی۔ پہلی لاش کو یہاں مارکیٹ میں لایا گیا اور لوگوں نے شہریوں کے تحفظ میں ناکامی پر حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ریاست میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کئے گئے اور تمام بازاروں کو بند رکھنے کو کہا گیا۔ریاست میں 3 مئی سے انٹرنیٹ معطل ہے اور کانگ پوکپی میں ہائی وے بند ہے ۔ یہ ریاست 58 دنوں سے تشدد کی آگ میں جل رہی ہے ۔ اب تک 120 سے زائد افراد ہلاک اور تین ہزار سے زائد افراد بری طرح زخمی ہو چکے ہیں۔ تقریباً 50 ہزار لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
راہول نے بے گھر لوگوں سے بات کی
کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے جمعہ کو منی پور میں بشنو پور ضلع کے موئرانگ کا دورہ کیا اور بے گھر افراد سے بات چیت کی۔ راہول کو امپھال سے تقریباً 45 کلومیٹر دور مویرانگ تک سڑک کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ ہیلی کاپٹر سے وہاں پہنچے ۔ جمعرات کو یہاں پہنچنے کے بعد سابق صدر کانگریس کے ساتھ منی پور کے سینئر قائدین بھی تھے ۔
کانگریس کے سابق صدرکے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ او ایبوبی، پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، ریاستی کانگریس صدر کے میگھچندرا اور کئی دیگر چورا چاند پور گئے ۔ کانگریس ٹیم کو وشنو پور ضلع میں پولس نے دو گھنٹے تک روکا۔کانگریس کی ٹیم اس کے بعد امپھال واپس آگئی۔ مسٹر گاندھی نے چورا چاند پور ضلع کا دورہ کیا اور بے گھر افراد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ ضلع میں 03 مئی کو تشدد شروع ہوا تھا۔مسٹر میگھچندرا نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو سڑک سے جانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن جب ٹیم موئرنگ کے قریب پہنچی تو اسے منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے کانگریس لیڈروں کو سڑک سے جانے کی اجازت نہیں دی۔ کچھ لوگ ہیلی کاپٹر میں ان کے ساتھ گئے ۔اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈروں نے بھی سول سوسائٹی کے لیڈروں، سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں سے بھی بات چیت کی۔