کنگپوکپی ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود پر تشددواقعات
امپھال :منی پور کے کنگپوکپی ضلع میں جمعہ کو ایک ریالی کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے، جس میں کم سے کم پانچ مظاہرین اور سیکورٹی فورس کے کچھ جوان زخمی ہوگئے ہیں۔ معلومات کے مطابق، پولیس نے آنسو گیس کے شل برسائے جس میں دو لوگ زخمی ہوگئے۔ دونوں زخمیوں کو کنگپوکپی کے ضلع اسپتال میں ابتدائی علاج کرایاگیا جس کے بعد بہتر علاج کے لیے امپھال ریفر کردیا گیا ہے۔قبائیلی افراد کے زمینی حقوق کے ناانصافی کے خلاف ریالی منظم کی گئی تھی اور بعض حصوں کو حکومت نے محفوظ قرار دیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، کنگپوکپی شہر میں تھامس گراونڈ کے پاس جمعہ کی صبح یہ تشدد ہوا۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، لیکن جوابی کارروائی میں مظاہرین نے سیکورٹی فورس پر سنگباری شروع کردی۔منی پور کے کچھ حصوں میں 10 مارچ کو کوکی طلبہ تنظیم جی ایچ کیو (KSO-GHQ) کی جانب سے آدی وادی شہری تنظیموں کے ساتھ منعقدہ ایک اجتماعی امن ریالی، کنگپوکپی ضلع میں پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی کیونکہ امن ریالی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوگئی۔ کے ایس ا و۔جی ایچ کیو نے 9 مارچ کو ایک نوٹیفکیشن میں کنگپوکپی ضلع کے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ کے ایس ا و۔ایس ایچ کسی بھی قیمت پر مجوزہ امن ریالی کو انجام دے گا۔ کے ایس او ۔جی ایچ کیو نے سی آر پی سی کی دفعہ 144 کو لاگو کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کو ’غلط‘ بتایا تھا۔دراصل، 10 مارچ کو مجوزہ پرامن ریلی سے پہلے، سی آر پی سی کی دفعہ 144 کنگپوکپی اور چمپائی سب ڈویژن کے تحت پورے کنگپوکپی ضلع ہیڈکوارٹر، سیٹو گامفاجوئی سب ڈویژن کے تحت سوپرمینا اور موٹبنگ علاقوں اور سیکول سب ڈویژن کے تحت سیکول میں نافذ کر دی گئی ہے۔ علاقے میں 9 مارچ سے اگلے احکامات تک پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔