مودی نے قومی مفاد کے کسی بھی مسئلہ پر کچھ نہیں کہا:کھرگے

   

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے شروع ہونے سے پہلے ان مسائل پر کچھ نہیں کہا جن کی ملک ان سے توقع کر رہا تھا۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز سے پہلے وزیر اعظم کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے اپنے کسٹمری الفاظ آج ضرورت سے زیادہ بولے ۔ اسے کہتے ہیں، رسی جل گئی، بل نہیں گیا۔ ملک کو امید تھی کہ مودی جی اہم مسائل پر کچھ بولیں گے ۔انہوں نے کہا کہ نیٹ اوردیگر بھرتی امتحانات میں پیپر لیک کے بارے میں نوجوانوں کے تئیں کچھ ہمدردی ظاہر کریں گے ، لیکن انہوں نے اپنی حکومت کی دھاندلی اور بدعنوانی کے بارے میں کوئی ذمہ داری نہیں لی۔ مغربی بنگال میں حالیہ ٹرین حادثے پر بھی مودی جی نے خاموشی اختیار کی۔ منی پور پچھلے 13 مہینوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے لیکن مودی جی نہ تو وہاں گئے اور نہ ہی آج اپنی تقریر میں تازہ ترین تشدد پر کوئی تشویش ظاہر کی ہے۔ کھرگے نے کہا کہ آسام اور شمال مشرق میں سیلاب ہو، مہنگائی ہو، روپے کی گراوٹ ہو، ایگزٹ پول اسٹاک مارکٹ اسکام ہو، اگلی مردم شماری کو مودی حکومت نے طویل عرصے سے التوا میں رکھا ہوا ہے ، ذات پات کی مردم شماری پر بھی مودی جی بالکل خاموش تھے ۔