ہندوستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال کیلئے مودی حکومت ذمہ دار، بڑے پیمانے پر احتجاج کے منصوبے
واشنگٹن ؍ نئی دہلی : وزیر اعظم ہند نریندر مودی اگلے ہفتہ صدر بائیڈن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں مودی حکومت کے دور اقتدار میں ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر گہری تشویش ہے۔ امریکہ میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی گروپ اگلے ہفتہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے سرکاری دورہ کے دوران احتجاجی مظاہروں کے منصوبے بنا رہے ہیں، جس کی وجہ وہ ہندوستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کو تاہم توقع نہیں کہ واشنگٹن انتظامیہ عوامی سطح پر نئی دہلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائیگی۔ انڈین امریکن مسلم کونسل، پیس ایکشن، ویٹیرنز فار پیس اور بیتیسڈا افریقن سیمٹری کولیشن نامی تنظیموں کا 22 جون کو صدر جو بائیڈن اور نریندر مودی کی مجوزہ ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے سامنے مشترکہ احتجاج کرنے کا منصوبہ ہے۔ واشنگٹن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے، جسے وہچین کے خلاف ایک طاقت کے طور پر دیکھتا ہے لیکن انسانی حقوق کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ جغرافیائی سیاست انسانی حقوق کے مسائل کو پس پشت ڈال دیگی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ہندوستان سے متعلق اس کے انسانی حقوق سے متعلق خدشات میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتوں، اختلاف رائے رکھنے والوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جانا شامل ہیں۔ احتجاج کرنے والے ان گروپوں نے ایسے بینر تیار کر رکھے ہیں، جن پر لکھا ہے مودی ناٹ ویلکم اور ہندوستان کو ہندو بالادستی سے بچاؤ۔ نیو یارک میں ایک اور پروگرام کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے، جس میں ہاؤڈی ڈیموکریسی کے عنوان سے ایک شو پیش کیا جائے گا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے پالیسی سازوں، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو اگلے ہفتہ واشنگٹن میں بی بی سی کی تیارکردہ مودی پر ایک دستاویزی فلم کی اسکریننگ کے لیے بھی مدعو کیا ہے، جس میں 2002 کے گجرات فسادات کے دوران ان کی قیادت پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ صدر بائیڈن کو لکھے گئے ایک خط میں ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈیویژن کی ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی کے دورے کے دوران ہندوستانمیں انسانی حقوق کے بارے میں عوامی اور نجی طور پر خدشات کا اظہار کرے۔ انہوں نے روئٹرز کے ساتھ شیئر کیے گئے اس خط میں کہا، ہم آپ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ آپ وزیر اعظم مودی کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا استعمال کرتے ہوئے مودی پر زور دیں کہ وہ اپنی حکومت اور اپنی پارٹی کو ایک مختلف سمت میں لے جائیں۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ ان سب باتوں کے باوجود بائیڈن اور مودی کی بات چیت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ محکمہ خارجہ کے ایک سابق اہلکار اور واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ ڈونالڈ کیمپ نے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ وہ بات چیت میں انسانی حقوق پر زیادہ توجہ نہیں دیں گے۔ کیمپ نے کہا کہ مودی کے دورے کو دونوں طرف سے کامیاب قرار دیے جانے کے لیے واشنگٹن کی جانب سے انسانی حقوق کے مسائل کو اٹھانے میں ہچکچاہٹ ہو گی۔