مودی ہے تو ممکن ہے !۔مرکز میں وزارت اقلیتی امور خطرہ میں

,

   

مختار عباس نقوی، ایم جے اکبر و سید ظفر اسلام کی راجیہ سبھا میعاد قریب الختم ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کہاںہے؟
حیدرآباد 7 جون(سیاست نیوز) سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس بی جے پی کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے کیونکہ مزید چند دنوں بعد بی جے پی میں ایک بھی مسلم ایم پی نمائندگی نہیں رہے گی ۔ ایک مسلم رکن اسمبلی بھی نہیں ہے۔ لوک سبھا کے جملہ ارکان کی تعداد 543 اور راجیہ سبھا ارکان کی تعداد 245 ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں و مرکزی زیر انتظام علاقوں میں 4,120 ارکان اسمبلی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰٰ کرنے والی بی جے پی کی جملہ 4908 نشستوں میں ایک بھی مسلم نمائندگی نہیں رہے گی ۔ بی جے پی سے مرکز وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی فی الحال آخری رکن پارلیمنٹ ہونگے ۔ چند دنوں میںراجیہ سبھا کے انتخابات ہونے ہیں، بی جے پی کو مرکز میں مکمل اکثریت ہے ۔ 17 ریاستوں کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی بی جے پی برسر اقتدار ہے ۔ مختار عباس نقوی کو کسی بھی ریاست سے امیدوار بنانے کی گنجائش کے باوجو د بی جے پی امیدواروں کی فہرست میں مر کزی وزیر مختار عباس نقوی کا نام شامل نہیں ہے ، جن کی راجیہ سبھا میعاد بہت جلد ختم ہونے والی ہے ۔ بی جے پی کی نئی فہرست میں ایک بھی مسلم امیدوار نہیں ہے ۔ لوک سبھا میں بی جے پی کی طرف سے ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہے ۔ راجیہ سبھا میں مختار عباس نقوی کے ساتھ جملہ 3 مسلم امیدوار تھے۔ سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کی میعاد 29 جون کو اور بی جے پی کے قومی ترجمان سید ظفر عالم کی میعاد 4 جولائی کو اور مختار عباس نقوی کی میعاد 7 جولائی کو مکمل ہورہی ہے، انہیں دوبارہ کسی بھی ریاست سے امیدوار نہیں بنایا گیا ہے ۔ اترپردیش میں اکھلیش یادو اور اعظم خان نے اسمبلی کو منتخب ہونے کے بعد لوک سبھا کی نشستوں کو استعفیٰ دے دیا تھا ۔ مختار عباس نقوی رامپور لوک سبھا کے قیمتی انتخابات میں بی جے پی کی جانب سے امیدوار بنانے کی توقع کر رہے تھے مگر بی جے پی نے ان دونوں ضمنی انتخابات کیلئے ہندو امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے نقوی کے امیدوں پر پانی پھیردیا ہے ۔ اب انہیں مرکزی وزارت سے بھی محروم ہونا پڑے گا ۔ لوک سبھا میں بی جے پی کی طرف سے آخری مسلم رکن پارلیمنٹ شاہنواز حسین تھے جنہوں نے 2009 میں بہار کے بھاگلپور سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ سال 2014 اور 2019 کے انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے کوئی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا ۔ سال 2014 ء میں بی جے پی نے جملہ 482 امیدواروں میں صرف 7 مسلم قائدین کو امیدوار بنایا جن میں تمام کو شکست ہوئی۔ سال 2019 ء میں 6 مسلم امیدواروں کا ٹکٹ دیا جن میں ایک بھی کامیاب نہیں ہوا۔ن