موسمی امراض میں اضافہ، سرکاری اور خانگی دواخانوں سے مریض رجوع

   

مچھروں کی افزائش کی روک تھام پر عدم توجہ، ڈینگی، ملیریا اور ٹائفائیڈ کی نشاندہی
حیدرآباد۔ 7 ۔ ستمبر۔ (سیاست نیوز) دونوں شہرو ںحیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر تمام اضلاع میں موسمی وبائی امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ موسم میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں موسمی امراض کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے ۔ موسمی وبائی امراض کا شکار ہونے والے افراد میں بچوں اور ضعیف العمر افراد کی تعداد زیادہ ہے اور کئی مریض ان امراض کا شکار ہونے کے بعد خانگی ڈاکٹرس سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے علاج کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ سرکاری دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موسم باراں کے دوران ہونے والی بارشوں کے بعد پانی جمع ہونے کے سبب مچھروں کی افزائش میں ہونے والے اضافہ کو فوری طور پر روکنے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب دونوں شہرو ںمیں ڈینگی ‘ ملیریا‘ ٹائیفڈ کے علاوہ دیگر موسمی بیماریوں کا شہری شکار ہونے لگے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں خانگی اطباء کا کہناہے کہ بچوں کو اس طرح کے موسم کے دوران وبائی اور موسمی امراض سے محفوظ رکھنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جانے چاہئے علاوہ ازیں ضعیف العمر شہریوں کو بھی ان امراض سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ موسمی امراض کا عمومی طور پر وہ لوگ شکار ہوتے ہیں جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اسی لئے انسان کو اس طرح کے موسم کے دوران صحت مند غذاؤں کے استعمال کے ذریعہ مستحکم قوت مدافعت کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ دونوں شہروں میں پھیل رہے وبائی و موسمی امراض کے پیش نظر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے عوامی شعور بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہے اس کے علاوہ محکمہ صحت تلنگانہ کی جانب سے بھی صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے علاوہ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے اقدامات پر توجہ دینے کی اپیل کی جانے لگی ہے۔تلنگانہ کے مختلف اضلاع جہاں بارشوں اور سرد موسم کا سلسلہ جاری ہے ان اضلاع میں بھی عوام سردی ‘ کھانسی ‘ نزلہ ‘ زکام اور گلے میں درد کی شکایات کے ساتھ ڈاکٹرس سے رجوع ہونے لگے ہیں ۔بچوں میں اگر یہ علامات پائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں ڈاکٹرس سے رجوع کرتے ہوئے ان کے علاج کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ ان کی بہتر تشخیص کے ذریعہ انہیں درکار ادویات دی جاسکیں۔3