زیر زمین پانی کی سطح میں گراوٹ انتہائی تشویشناک
حیدرآباد۔13۔مارچ(سیاست نیوز) موسم گرما کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں کئی علاقوں میں بورویل سوکھ جانے کی شکایات موصول ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں زیر زمین سطح آب میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ موسم باراں کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں معمول سے زیادہ بارش کے باوجود زیر زمین سطح آب میں اضافہ کے بجائے ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے متعلق کہا جار ہاہے کہ جاریہ موسم گرما کے دوران شہر کے کئی علاقو ںمیں پانی کی قلت کی شکایات موصول ہوسکتی ہیں ۔ زیر زمین سطح آب کا جائزہ لینے والے محکمہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود بلکہ آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں زیر زمین سطح آب میں تشویشناک حد تک کمی ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں موسم باراں کے دوران معمولی بارش 747 ملی میٹر سے زیادہ 858 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 15 فیصد زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود دونوں شہروں کے کئی علاقو ںمیں زیر زمین سطح آب میں گراوٹ کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہاہے جبکہ سال 2017 سے 2025 تک کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو بلدی حدود میں مسلسل ہر سال زیر زمین سطح آب میں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔شہر کے علاقہ کوکٹ پلی میں سب سے زیادہ زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور اس علاقہ میں زیر زمین سطح آب 25.90 میٹر تک پہنچ چکی ہے جو کہ تشویشناک ہے ۔ اسی طرح ملکا جگری کے علاقوں میں زیر زمین سطح آب 24.71 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ امیر پیٹ کے علاقہ میں 17.83 میٹر پر پانی موجود ہونے کی توثیق کی گئی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 44 فیصد علاقہ میں زیر زمین سطح آب 10 تا 15 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مابقی 45 فیصد بلدی حدود میں زیر زمین سطح آب 5تا10 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے اور موسم گرما کی شدت میں ہونے والے اضافہ کے دوران زیر زمین سطح آب میں مزید گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے اور کہا جار ہاہے کہ ماہ مئی اور جون کے اوائل میں زیر زمین سطح آب میں تشویشناک حد تک اضافہ کے خدشات پائے جانے لگے ہیں۔ماہرین کے مطابق شہری علاقو ںمیں سمنٹ اور کنکریٹ کی سڑکوں کی تعمیرات میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں زمین میں پانی جذب ہونے کی صلاحیت کم ہونے لگی ہے جس کے نتیجہ میں زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کے علاقہ محکمہ مال کی جانب سے زیر زمین پانی کی سطح میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کی ہفتہ واری رپورٹ وصول کی جار ہی ہے تاکہ موسم گرما کے دوران زیر زمین پانی کی صورتحال پر نظر رکھی جاسکے ۔ 7فیصد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاقوں میں زیر زمین سطح آب 15تا20 میٹر تک پہنچ چکی ہے جو کہ سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔مجموعی اعتبار سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جاریہ سال کے دوران ریکارڈ کی جانے والی زیر زمین سطح آب کے سلسلہ میں ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جاریہ سال 9.46 میٹر اس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سال 2017سے2024 کے درمیان مجموعی طور پر سالانہ زیر زین سطح آب میں 19سینٹی میٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔ 3