متاثرہ خاندانوں کا مکانات کا از خود تخلیہ کرنے کا حکومتی ادعا بعید ازحقیقت :کونسل میں کویتا کی تقریر
حیدرآباد 17 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) قانون ساز کونسل میں رکن بی آر ایس کے کویتا نے موسٰی ندی معاملے میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کویتا نے حکومت کے دعوؤں اور اقدامات پر سوال اٹھائے۔ کویتا نے کہا کہ حکومت عوام اور ایوان دونوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ موسٰی ندی پروجیکٹ کیلئے ڈی پی آر تا حال تیار نہیں کی گئی ہے۔ اس کے باوجود اطلاعات ہیں کہ حکومت نے عالمی بینک سے اس کیلئے 4100 کروڑ کی امداد طلب کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ عالمی بینک سے کس تاریخ کو مدد طلب کرنے تجاویز روانہ کی گئیں۔ چیف منسٹر نے حال میں مرکزی وزیر کشن ریڈی سے موسٰی ندی پراجیکٹ کیلئے مالی امداد کا مطالبہ کس بنیاد پر کیا؟ ۔اگر حکومت عالمی بینک اور مرکز سے مدد طلب کر رہی ہے تو پھر ایوان اور عوام کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے؟ کویتا نے کہا کہ اگر ایوان کو غلط معلومات فراہم کی گئیں تو وہ اس معاملے میں تحریک مراعات پیش کرنے مجبور ہوجائیں گی۔ کویتا نے موسٰی ندی کے اطراف رہنے والے 309 متاثرہ خاندانوں کے معاملے میں بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ خاندان خود ہی اپنے مکانات خالی کر کے چلے گئے ہیں۔ یہ بات بعید ازحقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس متاثرین کی رضامندی کے دستاویزات ہیں تو انہیں ایوان میں پیش کیا جائے۔ کویتا نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے تحفظ اور انہیں انصاف کی فراہمی کیلئے وہ کسی بھی حد تک جانے تیار ہیں۔ موسٰی ندی معاملے میں حکومت کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر شفافیت سے کام لینا ہوگا بصورت دیگر بی آر ایس خاموش نہیں بیٹھے گی۔