l بعض مکینوں کی جانب سے احتجاج ، کئی مکینوں کو ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا تیقن
l 40 جائیدادوں کے مکینوں کی رضا مندی سے کارروائی ، محکمہ مال کی وضاحت
حیدرآباد۔یکم ۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں موسیٰ ندی کے طاس میں موجود علاقوں موسیٰ نگر ‘ شنکر نگر اور بھولا نگر کے علاقوں میں حاصل کی گئی جائیدادوں کی انہدامی کاروائی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ محکمہ مال کے عہدیداروں کی نگرانی میں شروع کی گئی اس کاروائی پر بعض مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا جبکہ جن مکینوں کو ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی عمل میں لائی جاچکی ہے ان مکانات کا انہدام کردیاگیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں موسیٰ ندی کے کناروں پر آباد بستیوں کے تخلیہ کے اقدامات کے علاوہ ان جائیدادوں کو حاصل کرتے ہوئے منہدم کرنے کا عمل شروع کیاگیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق موسیٰ نگر‘ بھولا نگر اور شنکر نگر کے علاقوں میں محکمہ مال نے مجموعی اعتبار سے 40جائیداد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان جائیدادوں کا گذشتہ یوم تخلیہ کرواتے ہوئے انہیں مہر بند کردیا گیا تھا اور آج موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداروں نے محکمہ مال کے عہدیداروں کی نگرانی میں ان جائیدادوں کو منہدم کرنے کا آغاز کیا ۔ ان جائیدادوں کے انہدام کے دوران علاقہ کے بعض مکینوں نے حکومت کی اس کاروائی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کے مکانات کا مکمل طور پر تخلیہ کرنے کی مہلت بھی فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں ان کے مکانات کے دروازوں کو نکالنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجہ میں نہ صرف انہیں مکان کے منہدم ہونے کا بلکہ ان کے اثاثوں کا بھی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروں نے بتایا کہ رکن اسمبلی ملک پیٹ کی نگرانی میں جن مالکین جائیدادکے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں انہیں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی فراہمی کے بعد ان کی جائیدادوں کو ان کی مرضی کے مطابق منہدم کیاگیا ہے لیکن بعض غیر متعلقہ افراد انہدامی کاروائی کے دوران احتجاج کرتے ہوئے اس کاروائی کو غیرقانونی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ محکمہ مال کے عہدیداروں کی جانب سے ان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہی ان مکانات کے انہدام کا آغاز کیاگیا ہے۔ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں کی گئی اس کاروائی کے دوران کسی بھی سیاسی قائد کی عدم مداخلت پر بھی عوام نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین ووٹ کے حصول کے لئے پہنچتے ہیں لیکن اب جبکہ وہ مسائل کا شکار بنے ہوئے ہیں ان کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کوئی آگے نہیں آرہا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ مال کے عہدیداروں نے ان بستیوں میں جملہ 140 جائیدادیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان جائیدادوں کے حصول کے بعد ان جائیدادوں کا تخلیہ کرواتے ہوئے انہیں مہربند کردیا ہے جن میں آج 40 کے قریب جائیدادوں کو منہدم کرنے کی کاروائی انجام دی گئی ہے۔3