مولانا عباس انصاری کی موت سے کشمیر کو بڑا نقصان پہنچا :سوز

   

سری نگر : کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ مجھے مولانا عباس انصاری کی موت کی خبر سے کافی صدمہ پہنچا ہے ۔ میں تین دہائیوں پر محیط عرصے سے مولانا کو جانتا تھا۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ ہر سیاسی مسئلہ باہمی گفت و شنید سے حل کیا جا سکتا ہے اور اُ ن کا ہمیشہ یہی مشورہ رہتا تھا کہ مسائل کے حل کے لئے مفاہمت اور مصالحت سے کام لینا چاہئے کیوں کہ دوسری صورت خون خرابے کی جس میں معاملات اور زیادہ بگڑتے ہیں! انہوں نے کہاکہ آج کے دن مجھے یا د آتا ہے کہ میں نے پر امن گفت و شنید کے سلسلے میں حریت کے زعمائکو یہ معاونت بہم پہنچائی تھی کہ وہ وزیر اعظم ہند کے ساتھ مزاکرات شروع کریں۔ مولانا عباس انصاری اور پروفیسرعبدالغنی بٹ نے اس کام میں کافی ہاتھ بٹایا تھا! اُن کے مطابق حکومت ہند کے ساتھ جو مزاکرات شروع ہوئے تھے وہ کامیابی کی طرف برابر بڑھ رہے تھے مگر بدقسمتی سے صدر پاکستان جنرل مشرف کو پاکستان کی جوڈیشری سے تعلقات بگڑ گئے تھے جس سے مذاکرات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا! سوز نے کہاکہ میں مولانا عباس کے حق میں دعائے مغفرت ادا کرتا ہوں اور غمزدہ خاندان کے ساتھ تعزیت پیش کرتا ہوں!