مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والے ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور مسلمانوں کو جیل میں ٹھونسا جارہا ہے : پیس پارٹی
پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ہریانہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے و فسطائی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے مظلوم مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا رہی ہے ، جو قابل مذمت و جمہوریت و آئین مخالف ہے ۔حکومت غیر جانبدارانہ کارروائی کے برعکس مظلوم مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج رہی ہے ،جبکہ اصلی ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں ،حکومت یکطرفہ کارروائی کرکے شرپسندوں کی حوصلہ افزائی ضرور کر رہی ہے ۔انہوں نے مظلوم مسلمانوں کے گھروں پر چلائے جارہے بلڈوزر کے متعلقہ میں اپنے ردعمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔انھوں نے کہا کہ ملک کے مختلف عوامی مسائل ،بڑھتی مہنگائی و بے روزگاری جیسے برنگ ایشو پر پردہ ڈالنے کیلئے بی جے پی حامی شرپسندوں نے آئندہ 2024 کے پارلیمانی انتخاب کو دیکھتے ہوئے ایک منظم سازش کے تحت نوح میں دھرم کے نام پر جلوس نکال کر جو تشدد کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ،حکومت حامی دہشت گرد مونوں مانیسر وغیرہ نے جلوس نکالنے سے قبل وائرل ویڈیو میں کھلے عام مسلمانوں کو دھمکی دی تھی ،اگر حکومت غیر جانبدارانہ کارروائی کر مونوں مانیسر جیسے دہشت گردوں پر کارروائی کرتی تو آج یہ فساد نہ ہوتا ،مگر ایسا لگتا ہے کہ اس میں حکومت کی مرضی شامل تھی، اس لئے وقت پر کارروائی نہیں کی گئی ،فسطائی شرپسندوں نے کھلے عام تشدد کا مظاہرہ کیا ۔اب حکومت شرپسندوں کے خلاف کارروائی کے برعکس مظلوم مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ،اور ان کے گھروں کو منہدم کرا رہی ہے ،جوکہ سراسر ظلم ہے ،حکومت کیا منی پور کی طرح نوح کو پوری طرح جلاکر خاک کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوح میں فرقہ وارانہ تانڈو وہاں کے مسلمانوں کو سبق سکھانے کیلئے مچایا گیا تھا ۔ہریانہ حکومت و اس کی پولیس بھلے ہی اس فساد کی پاداش میں یکطرفہ طور پر مسلمانوں پر کارروائی کر رہی ہے ،مگر پورے ملک کے سامنے حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ پس پردہ بی جے پی کہ فرقہ وارانہ سیاست ہی کارفرما ہے ۔نوح فسادات کی حکومتی سرپرستی و میڈیا کی جانبدارانہ رپورٹنگ کے بعد بھی حقیقت لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو گئی ،کہ فساد کی آگ کے ذریعہ بی جے پی پھر تیسری مرتبہ ملک پر زیر اقتدار آنا چاہتی ہے ۔
ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ فسادات پر قدغن لگا کر غیر جانبدارانہ کارروائی اور مسلمانوں پر ظلم نہ روکا گیا تو یہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہوگا ،یہ دھارمک منافرت کی آگ سب کچھ جلا کر ختم کرنا چاہتی ،جس کو روکنے کی ذمہ داری ہر ہندوستانی کی ہے ۔