وینکٹ پارسا
ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی سیکولر شناخت کے بارے میں عام تصور کے برخلاف یا اس کے برعکس ان کے خیالات سنگھ پریوار کی سوچ و فکر اور نظریہ سے خاص حد تک قریب تھے۔ یہ اور بات ہیکہ حد سے زیادہ عقیدت رکھنے والے امبیڈکر وادی اس پہلو کو پوشیدہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا بہت سے مواد موجود ہے جو ڈاکٹر امبیڈکر کی اس پوشیدہ مگر حقیقی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی کتاب or PAKISTAN Partition of India جو 1946ء میں شائع ہوئی۔ ان کی بنیادی سوچ کو واضح کرنے کی بہترین مثال ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہیں اور اسے ایک ہندو اکثریتی قومی ریاست کی بجائے عالمی مسلم امہ کے ساتھ قرار دیتے ہیں۔ ایک سخت اور متنازعہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہندو اکثریتی جمہوریت میں مسلمانوں کیلئے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کے مطابق مسلم حملے، مذہب کی جبری تبدیلی اور جسے وہ غلامی قرار دیتے ہیں، مسلمانوں میں تاریخی فخر کا احساس پیدا کرتے ہیں جبکہ ہندوؤں میں شرمندگی اور شکست یا ناکامی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر اور سنگھ پریوار کے سیاسی نظریات اور عالمی نقطہ نظر کی مماثلت اس سے بہتر طریقے سے شاید واضح نہیں ہوسکتی خاص طور پر ونائک دامودر ساورکر جن کی 1923 کی تصنیف ’’ہندوتوا‘‘ بعد میں آر ایس ایس کی سوچ و فکر اور نظریہ کا محور بنی جسے کیشوبلی رام ہیڈگوار نے 1925 میں قائم کیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ساورکر سے تین دہائیوں پر محیط دوستی کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس کا جشن بھی منایا۔ ایک طرح سے ساورکر، محمد علی جناح اور ڈاکٹر امبیڈکر برطانوی سامراج کے زیرتسلط ہندوستانی سیاسی نظام کے اہم مثلث بن گئے تھے جس نے ان تینوں کو فروغ دینے میں مدد دی۔ اس حقیقت سے سب واقف ہیں اور اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ساورکر ہندوراشٹر کے حامی تھے جبکہ محمد علی جناح پاکستان کے حامی تھے۔ دوسری طرف ڈاکٹر بی آر امبیڈکر صرف دلتوں کیلئے علحدہ انتخابی حلقوں تک محدود نہیں تھے بلکہ 1932 سے دلتستان کے تصور کے تحت زمین کی علحدہ آبادکاری کے بھی حامی تھے۔ یہی ان کے اس خصوصی یادداشت نامے کا مرکزی نکتہ تھا جو انہوں نے اپنی قائم کردہ شیڈول کاسٹ فیڈریشن کی جانب سے 1942 میں تیار کیا اور 1947 میں دستور اسمبلی کو پیش کیا۔ اگر ڈاکٹر امبیڈکر اپنے پسندیدہ تصور ’’دلتستان‘‘ پر قائم نہ رہ سکے تو اس کا کریڈٹ مہاتما گاندھی کو جاتا ہے۔ وہ گاندھی جی ہی تھے جنہوں نے انہیں ضمنی انتخابات میں کامیابی دلاکر اسمبلی تک پہنچایا۔ 1947 میں دستورساز اسمبلی اس وقت جب ڈاکٹر امبیڈکر 1946 کا اپنا الیکشن ہار گئے تھے۔ اس وقت گاندھی جی نے کانگریس قیادت کو اس بات پر قائل کیا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو دستورساز اسمبلی کی مسودہ کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا جائے حالانکہ اس وقت تک مسودہ بی این راؤ، این اننتا شایان اٹیگر اور دوسروں کی نگرانی میں کافی حد تک حتمی شکل اختیار کرچکا تھا۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ تھی کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مہاتما گاندھی کے کٹر مخالف تھے۔ ناتھورام گوڈسے کی طرح ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے بھی ساوتری امبیڈکر کو لکھے گئے ایک مکتوب میں کہا کہ انہیں یقین ہیکہ مہاتما گاندھی کا قتل ملک کیلئے فائدہ مند ہوگا۔ ڈاکٹر امبیڈکرنے کہا کہ رومی تاریخ کا ایک واقعہ ہے جو اس موقع پر میرے ذہن میں آیا ہے۔ جب سیزر کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور اس کے قتل کی خبر Cicero سیزرہ تک پہنچی تب سیزرہ نے اس تک سیزر کے قتل کا پیغام پہنچانے والے پیغام رساں سے کچھ یوں کہا ’’رومیوں سے کہدو ان کی آزادی کا وقت آ گیا ‘‘اگر ہم اس کا تقابل سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جانب سے 11 ستمبر 1948ء کو اس وقت کے آر ایس ایس سربراہ کو لکھے گئے مکتوب کا جائزہ لیں توپتہ چلتا ہیکہ آر ایس ایس سربراہ مادھو سداشیو گولوالکر کو موسومہ اپنے مکتوب نے سردار پٹیل نے لکھا کہ گاندھی جی کے قتل پر آر ایس ایس والوں نے خوشیاں منائیں۔ آپس میں مٹھائیاں تقسیم کیں جس کے نتیجہ میں آر ایس ایس کے تئیں عوامی مخالفت بڑھ گئی ایسے میں آر ایس ایس کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کیلئے ناگزیر ہوگیا۔ ایک بار پھر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مہاتما گاندھی کے قتل کے ملزمین کی مدد کرنے کے معاملہ میں اپنے انتہائی متنازعہ اور اخلاقی طور پر ناقابل دفاع کردار کے باعث تنقیدوںکی زد میں آتے ہیں۔ تاریخ میں آیا ہے کہ 15 اگست 1947 تا 6 اکٹوبر 1951 ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ملک کے وزیرقانون کے عہدہ پر فائز تھے۔ چنانچہ وہ ناتھو رام گوڈسے کے وکیل تک رسائی حاصل کی اور گوڈسے کی سزائے موت کو سزائے عمرقید میں تبدیل کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے ناتھورام گوڈسے کے وکیل سے کہاکہ وہ ناتھورام گوڈسے کی دستخط شدہ درخواست رحم انہیں (امبیڈکر کو) پیش کرے۔ غرض نہرو کابینہ میں رہتے ہوئے وہ کانگریس کے خلاف جانے کی کوشش کررہے تھے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کانگریسوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ گوڈسے کو پھانسی پر لٹکانا خود گاندھی جی کے پیام عدم تشدد کے منافی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس کے نتیجہ میں کانگریس خود اپنے ہی جال میں پھنس جائے گی اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل کی زندگی بچانے پر مجبور ہوگئی لیکن حیرت انگیز طور پر ناتھورام گوڈسے نے امبیڈکر کی پیشکش ٹھکرادی اور کہا کہ اگر وہ گاندھی جی کے قتل کے بعد زندہ رہتا ہے تو پھر ساری ہمدردیاں مہاتما کو حاصل ہوں گی اور وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ وہ نہیں چاہتا جی کو عوام کو ہمدردی حاصل ہیں۔ اس طرح گاندھی جی کے قاتل کی زندگی بچانے سے متعلق ڈاکٹر امبیڈکر کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر نے ایک اور کلیدی ملزم کو بچانے پر اپنی توجہ مرکوز کی جسے گاندھی جی قتل کیس میں مقدمہ کا سامنا اور وہ تھا ونائک دامودر ساورکر۔ ڈاکٹر امبیڈکر خفیہ طور پر ساورکر سے ہمدردی رکھتے تھے چنانچہ ساورکر کی وکالت کرنے والی نیم جو ایل بی بھوپاٹکر اور پھر بعد میں ایل کے اڈوانی کے ایک بلاگ مورخہ 12 ستمبر 2013ء میں بھی ساورکر کی گاندھی جی کے قتل کیس میں برأت میں امبیڈکر کے خفیہ اور اہم رول کو تسلیم کیا گیا۔ (نوٹ مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں)