ایم پی پرگیہ ٹھاکر کے ریمارک سے بی جے پی کا اظہار لاتعلقی، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا
نئی دہلی 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاتما گاندھی کے قاتل نتھورام گوڈسے کو حب الوطن، دیش بھگت قرار دینے کی بی جے پی نے شدید مذمت کی اور کہاکہ اس طرح کے فلسفہ میں کوئی منقطی بات نہیں ہے۔ بی جے پی نے اس غلطیوں کی عادی ایم پی کی سرزنش کی اور کہاکہ پرگیہ ٹھاکر کے ریمارک سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پارٹی نے انھیں پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت سے روک دیا اور انھیں ڈیفنس پر قائم کی گئی مشاورتی کمیٹی سے بھی ہٹادیا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں برہم اپوزیشن ارکان کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہاکہ ان کی پارٹی اس تبصرہ کی مذمت کرتی ہے اور اس طرح کے بیان میں کوئی فلسفیانہ بات نہیں ہے کہ مہاتما گاندھی کے قاتل کو حب الوطن یا دیش بھگت قرار دیا جائے۔ پرگیہ ٹھاکر نے کل ایک تبصرہ کرتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ مہاتما گاندھی کے قاتل نتھورام گوڈسے دراصل دیشت بھگت تھے۔ اس تبصرہ کو ریکارڈ میں نہ رکھنے کا اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے حکم بھی دیا تھا۔ ہندوتوا لیڈر پرگیہ ٹھاکر پے در پے غلط بیانات دیتے آرہی ہیں۔ ان کے تبصروں سے تنازعات پیدا ہورہے ہیں۔ پرگیہ ٹھاکر نے اس سے پہلے بھی نتھورام گوڈسے کی ستائش کی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے خاص کر وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیاکہ پرگیہ کے خلاف عدم کارروائی سے ان کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ اور وہ گوڈسے کی مسلسل تائید کررہی ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے بھی کہاکہ پرگیہ کے ریمارکس بی جے پی کی روح اور ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ بی جے پی کے سوچ کی عکاس ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات کی آئینہ دار ہے۔ بی جے پی کی حلیف پارٹی جنتادل (یو) نے پرگیہ ٹھاکر کے خلاف زعفرانی پارٹی کی کارروائی کا خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیاکہ اس معاملہ کو لوک سبھا کی اخلاقی کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ جنتادل (یو) کے ترجمان کے سی تیاگی نے مزید کہاکہ ماضی میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے بشمول کئی اہم قائدین کو متنازعہ ریمارکس کرنے پر اہم ذمہ داریوں سے خارج کردیا گیا تھا۔ اگر بی جے پی نے اپنی لیڈر کے خلاف کارروائی نہیں کی تو پھر یہ واضح ہوجائے گا کہ پرگیہ ٹھاکر کے ریمارک کو پارٹی کی تائید حاصل ہے۔ پرگیہ مالیگاؤں بم دھماکوں میں ملزم ہے۔ تاہم انھوں نے لوک سبھا میں اپنے تبصرے پر زور دے کر کہاکہ ان کا ریمارک انقلابی لیڈر ادھم سنگھ کی توہین کرنے پر کیا گیا تھا۔