مہاراشٹرا انتخابات کے پس پشت ریاست میں اڈانی راج نافذ کرنے کی سازش

   

مہایوتی کی جیت بے ایمانی کا نتیجہ، شیوسینا (یوبی ٹی) کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کا اداریہ

ممبئ : شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے ترجمان اخبار سامنا نے ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی قیادت والی برسراقتدار مہایوتی کی فتح کو بے ایمانی کی جیت اورریاست میں اڈانی راج عائد کئے جانے کی سازش قرار دیا ۔ سامنا نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اس جیت کے پیچھے اڈانی کمپنی کی خوفناک سازش ہے ۔ دو دن پہلے امریکہ میں اڈانی کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا اور پوری بی جے پی اڈانی کی کرپشن کے دفاع میں کھڑی ہے ۔ مہاراشٹر کا سارا نتیجہ اسی اڈانی کو وقار دلانے کے لیے کیا گیا جس کی جیب میں مودی ،شاہ ،فڑنویس،شنڈے ممبئی سمیت مہاراشٹر کی پبلک پراپرٹی ڈالنے کی سازش کر رہے ہیں۔ آج مہاراشٹر ختم ہوا، اس لیے قوم بھی ختم۔ ‘اڈانی نیشن’ کے عروج کی خوشی اور مسرت شروع ہوگئی۔ یہ خوشی صرف ان کو ہی مبارک ہو، اڈانی قوم مہاراشٹر کے سینے پر کھڑی نظر آتی ہے ۔ یہ جیت سچ کی نہیں ہے ۔ سامنا مزید رقمطراز ہیکہ قرض کے بوجھ سے دبے کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ پیاز، ٹماٹر، دودھ سڑک پر پھینکنا پڑرہا ہے ۔ مہاراشٹر کی صنعتوں کے گجرات منتقل ہونے سے ریاست کے نوجوان بے روزگار ہو گئے ہیں۔ کسانوں کے بچوں کی بے روزگاری کی وجہ سے شادی نہیں ہو پا رہی، پھر بھی کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ اس حکومت سے محبت کی ایسی لہر اٹھی جس کے سبب ایک بدنام، غیر آئینی حکومت دوبارہ جیت گئی۔اخبار کے مطابق لوک سبھا میں اپنی عزت نفس کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہاراشٹر نے مودی-شاہ کی مہاراشٹر مخالف سیاست کو شکست دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مودی کی اکثریت کو روکنے کی ہمت دکھائی تھی لیکن اسکے فوری بعد چار ماہ کے ایک قلیل عرصے میں مہاراشٹر میں اسمبلی کا یہ نتیجہ آیا اور مہاراشٹر میں عظمت کی کنڈیاں پگھل کر گرنے لگی۔دریں اثناء نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے اتوار کو پارٹی کے صدر اجیت پوار کو اسمبلی میں پارٹی کا لیڈر منتخب کیا۔پارٹی اسٹیٹ یونٹ کے صدر اور لوک سبھا کے رکن سنیل تتکرے کی زیر صدارت ایک میٹنگ میں پوار کو مقننہ پارٹی کا لیڈر مقرر کیا گیا اور ان کے معاون انیل پاٹل کو دوبارہ چیف وہپ مقرر کیا گیا۔پاٹل ایوان کے اجلاسوں کے دوران ایم ایل اے کی موجودگی کی نگرانی کریں گے اور مختلف موضوعات پر بات کرنے کی ان کی درخواستوں پر غور کریں گے۔مہیوتی بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا میں این سی پی اور اس کے اتحادیوں نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 288 میں سے 233 نشستیں حاصل کیں۔. این سی پی نے 59 سیٹوں پر مقابلہ کیا اور 41 سیٹیں جیتیں۔