مہاراشٹرا کے ایک شہری میں لمپی وائرس کے اثرات

   


جانوروں سے انسانوں میں منتقلی، تحقیق میں تصدیق کے بعد عوام خوف کا شکار
حیدرآباد۔ 14 اکتوبر (سیاست نیوز) لمپی وائرس کے خوف میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں انسانوں پر ظاہر علامات اور ان اطلاعات کی شوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے شہر حیدرآباد میں مزید خوف بڑھ گیا ہے۔ پہلے ہی بڑے جانوروں کے گوشت کے استعمال سے پرہیز کررہی عوام مکمل طور پر بند کردینے کی سوچ رکھتے ہیں اور کئی شہریوں نے گوشت کا استعمال ہی بند کردیا ہے۔ ریاست مہاراشٹرا کے ضلع ناندیڑ میں ایک شہری پر لمپی وائرس کے اثرات کا ظاہر ہونا تشویش و خوف کا سبب بنا ہوا ہے حالانکہ یہ بیماری بڑے جانوروں تک محدود ہے لیکن جانوروں سے انسانوں میں منتقلی ہونے کی تازہ تحقیق میں تصدیق کے بعد خوف بڑھ گیا ہے۔ ناندیڑ ضلع میں لمپی وائرس کے اثرات جانوروں پر ہونے کے چند روز بعد شہری میں ان علاتوں کا ظاہر ہونا باعث تشویش بن گیا ہے۔ شہر حیدرآباد میں پہلے ہی سے لمپی وائرس کا خوف دہشت کا سبب بن گیا ہے اور شہری اڈلی ووڈہ سانبر دوسہ کو اہمیت دینے کے تک محدود غذا کو اب مکمل طور پر استعمال کرنا عافیت تصور کیا جانے لگا ہے۔ گوشت خور افراد لمپی وائرس کے سبب ترکاری فروشوں کے زمرے میں پہنچ چکے ہیں۔ شہر میں اڈلی، ووڈا، کا بول بالا ہے اور گوشت سربراہ کرنے والی ہوٹلوں میں کاروبار متاثر ہوا ہے۔ گوشت کے خریداری کے علاوہ گوشت فروخت کرنے والے بھی احتیاط کررہے ہیں چونکہ خریداری میں خوف کے سبب دلچسپی ختم ہوتی جارہی ہے۔ لمپی وائرس کے سبب بازاروں میں جانوروں کی آمد و رفت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شہر و نواحی علاقوں میں ہر جگہ لمپی وائرس موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں ظاہر ہونے والے اثرات اور مقامی سطح سے شہر و ریاست میں پہنچی اطلاعات نے بھی شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اکثر شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر احتیاط کرلیا جائے تو بہتر رہے گا۔ شبہات کو ترک کرتے ہوئے گوشت کا استعمال کرنا ہی بہتر رہے گا۔ ایسے رجحانات و خیالات شہریوں میں پائے جاتے ہیں۔ ع