مہاراشٹر احکومت کے سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں کیلئے سخت ضوابط

   

ممبئی ، 22 اگست (یو این آئی) مہاراشٹرا حکومت نے سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر قابو پانے کے لیے نیا فیصلہ نافذ کر دیا ہے ۔ یہ فیصلہ جمعرات کی رات جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس کے مطابق اب کسی بھی افسر کو غیر ملکی سفر کے لیے تفصیلی درخواست دینا لازمی ہوگا۔ محکمہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اب تک افسران زیادہ تر مطالعاتی یا تربیتی دوروں کے لیے باہر جاتے تھے ، لیکن اس سے متعلق مکمل معلومات حکومت کو پیش نہیں کی جاتیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور یہ فیصلہ آج سے ریاست بھر میں نافذ العمل ہوگیا ہے ۔ اہلکار کے مطابق ہر غیر ملکی دورے کے لیے اب واضح طور پر بتانا ہوگا کہ یہ سفر کس ادارے کی جانب سے ہے اور اس کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ اگر دورہ کسی خانگی ادارے کے تحت ہو تو آمدنی کے ذرائع بیان کرنا ضروری ہوگا جبکہ سرکاری ادارے کی طرف سے کیے جانے والے دورے کی تمام لاگت گوشوارے میں شامل کرنا ہوگی۔ مزید برآں، یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ غیر ملکی دورے کی دعوت کس کی جانب سے دی گئی اور کن افراد کے نام پر آئی، اس کی مکمل تفصیلات دی جائیں۔ چارٹرڈ افسران کو اپنے سفر کے لیے متعلقہ وزیر کی اجازت لینا ہوگی، اور اگر کوئی پرائیویٹ فرد سرکاری ذمہ داری کے ساتھ سفر کر رہا ہے تو اسے بھی محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن سے اجازت درکار ہوگی۔ حکومت نے ایک نئے سرکلر کے ذریعہ آل انڈیا سروسز، اسٹیٹ سروسز، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس، کارپوریشنز اور بورڈز کے افسران کے سفر سے متعلق واضح رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ماضی میں اکثر تجاویز نامکمل تفصیلات یا تضادات کے باعث التوا کا شکار ہو جاتی تھیں۔
اسی لیے ایک نظرثانی شدہ تبصرہ فارم تیار کیا گیا ہے اور 01 فروری 2021 کو جاری سرکلر میں شامل چیک لسٹ اور سکریٹری کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ تاہم اس وقت دی گئی دیگر ہدایات پر عمل جاری رہے گا۔

نئی ہدایات کے مطابق نامکمل فارم والی تجاویز قبول نہیں ہوں گی۔ سٹڈی ٹور یا ٹریننگ کے علاوہ کسی سفر میں تین سے زیادہ افسران کو شامل نہیں کیا جا سکے گا، اور اگر اس سے زیادہ افراد شامل ہوں تو وجوہات واضح کرنا لازمی ہوگا۔ مطالعاتی یا تربیتی دوروں کی تجویز میں آل انڈیا سروسز کے افسران اور محکمہ سربراہوں کے ساتھ ملازمین کا علیحدہ بروشر بھی منسلک کرنا ہوگا جس پر جوائنٹ یا ڈپٹی سکریٹریز کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔