چاول ، تیل ، ترکاریوں کی قیمتیں آسمان پر ، بیروزگاری سے بدحال غریب و متوسط خاندانوں کا جینا محال
یلاریڈی۔ 13 اکٹوبر۔ ( محمد غوث علی خاموشؔ کی رپورٹ ) روز بہ روز بڑھتی قیمتوں سے عام آدمی کی زندگی محال ہوچکی ہے لگاتار کرانہ اشیاء چاول، خوردنی تیل، شکر ودیگر روز مرہ زندگی کے تمام اشیاء اور ترکاریوں کے دام ہر روز آسمان پر ہونے سے متوسط درجہ کے خاندانوں اور غریب خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام آدمی جس کی آمدنی سے کہیں زیادہ گرانی کی وجہ سے ضروریات زندگی کی چیزوں کو خریدنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ بازار کا رُخ کرنے سے عوام ڈر رہے ہیں ، اس قدر گراں قیمتوں نے عوام کے ہوش اُڑادئیے ہیں۔ ترکاریوں میں پیاز کی قیمت بھی فی کیلو ساٹھ روپئے تا ستر روپئے تک پہنچنے سے عام آدمی کے آنسو نکل رہے ہیں۔ بازار میں ایک لیمو کی قیمت دس روپئے ہوچکی ہے۔ اور روز مرہ کی ترکاریاں بھی سو روپئے تا 120 روپئے فی کیلو ہوچکی ہیں ۔ ایسی گرانی اگر جاری رہی تو غریب خاندان کی زندگی عذاب ہوکر رہ جائیگی۔ ایک طرف پہلے ہی سے بیروزگاری کو لیکر پریشان ہیں تو دوسری طرف گراں قیمتوں سے زندگی مشکل سے مشکل ہوتے جارہی ہے اور ریاستی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ چاول کی غیرمعمولی بڑھتی قیمت کو روکنے کیلئے حکومت کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے اگر ایسا ہی چلتا رہاتو چاول ایک سو روپئے فی کیلو سے بھی آگے نکل جائیگا جو غریب کی آمدنی سے باہر ہے۔ اور سونے پہ سہاگا پکوان گھریلو گیاس کی قیمت بھی ایک ہزار بیس روپئے ادا کرتے ہوئے حاصل کرنا پڑ رہا ہے جو کسی ظلم سے کم نہیں۔ ریاستی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی پانچ سوروپئے میں پکوان گیاس سلینڈر سربراہ کرنے کا وعدہ تو کردیا لیکن کسی کو بھی آج تک پانچ سو روپئے میں گیاس سلینڈر نہیں مل رہا ہے۔ کسی کسی کو صرف 380 روپئے سبسیڈی کے طور پر اکاؤنٹ میں ڈالی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود پانچ سو روپئے میں کسی کو بھی گیاس سلینڈر میسر نہیں جس سے غریب خاندان گراں قیمت ادا کرتے پکوان گیاس حاصل کررہے ہیں اور حکومت اپنا انتخابی وعدہ بھول کر عوام کو گرانی کے حوالے کردیا ہے۔ کرانہ کی گراں قیمتیں ، ترکاریوں کی گراں قیمتیں اور گیاس کی گراں قیمت نے عوام کی زندگی محال کر رکھی ہے۔ گراں قیمتوں پر قابو پانے کیلئے حکومت سے ضروری اقدامات کرنے کا عوام مطالبہ کررہی ہے۔