حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) بی آر ایس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ہریش راؤ نے مہیشورم گورنمنٹ میڈیکل کالج کے احتجاجی طلبہ کی بھوک ہڑتال میں شرکت کرتے ہوئے ان کے مطالبات سے اظہارِ یگانگت کیا۔ مہیشورم گورنمنٹ میڈیکل کالج میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے خلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ تین دن سے طلبہ احتجاج کر رہے ہیں اور آج ہریش راؤ نے بی آر ایس کے دیگر قائدین سبیتا اندرا ریڈی، ونشی ریڈی، کشن ریڈی اور دیگر قائدین کے ساتھ طلبہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ پہنچ کر ان کے مطالبات کی تائید کی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ حکام سے بارہا نمائندگی کے باوجود کالج میں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور برقی جیسی سہولتوں سے بھی کالج کی عمارت کو محروم رکھا گیا ہے۔ ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ مہیشورم گورنمنٹ میڈیکل کالج کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور طلبہ کو جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طلبہ جو مستقبل میں ڈاکٹر بننے والے ہیں انہیں حکومت نے بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے۔ چھ ماہ سے عمارت میں برقی سربراہی مسدود ہے کیونکہ حکام کی جانب سے برقی بل ادا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح پانی کی سربراہی بھی مسدود ہے کیونکہ بل کی ادائیگی باقی ہے۔ کرائے کی عمارت میں یہ کالج چلایا جا رہا ہے جبکہ بی آر ایس حکومت نے کالج کیلئے نہ صرف اراضی منظور کی تھی بلکہ 182 کروڑ روپے بھی جاری کیے تھے۔ہریش راؤ نے بتایا کہ مہیشورم میڈیکل کالج کیلئے کے سی آر حکومت نے 25 ایکڑ اراضی الاٹ کی تھی۔ کانگریس حکومت نے آج تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ مہیشورم گورنمنٹ میڈیکل کالج کی عمارت کس اراضی پر تعمیر کی جائے۔ طلبہ اور ان کے سرپرستوں سے ہریش راؤ نے بات چیت کی اور مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ بھوک ہڑتالی کیمپ سے ہریش راؤ نے کلکٹر رنگا ریڈی نارائن ریڈی اور ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر وانی دیوی سے فون پر ربط قائم کیا۔ 1/a/b
انہوں نے طلبہ کے مسائل کی فوری یکسوئی کا مطالبہ کیا۔ہریش راؤ سے احتجاجی طلبہ نے بتایا کہ مسائل کے حل کے سلسلے میں وزیرِ صحت دامودر راج نرسمہا سے بھی نمائندگی کی جا چکی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت ایک لاکھ کروڑ سے موسیٰ ندی کو ترقی دینا چاہتی ہے ، اس کے علاوہ فیوچر سٹی کی تعمیر میں دلچسپی ہے لیکن گورنمنٹ میڈیکل کالج برقی اور پانی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ویژن 2047 کے تحت تلنگانہ امریکہ اور چین سے مسابقت کرنا چاہتا ہے لیکن تلنگانہ میں طلبہ کو جن سہولتوں سے محروم کیا گیا اس کے نتیجے میں سری لنکا اور نیپال جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ میڈیکل کالج کی عمارت کہاں تعمیر کی جائے۔ 1