وزیر ہریش راؤ کے حامی چیرمین نرساپور میونسپل مرلی یادو اور ضلع صدر ایم آئی ایم ریاض الدین کی آج بی جے پی میں شمولیت
حیدرآباد ۔ 8 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست میں برسراقتدارسیاسی جماعت کیلئے ہمیشہ ہی مضبوط قلعہ کا رول ادا کرنے والے ضلع میدک میں اب نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ تلنگانہ راشٹراسمیتی کے انتہائی مضبوط عوامی قائدین میں شمار کئے جانے والے ٹی ہریش راؤ کو ایک نئے چیلنج کا سامنا رہے گا۔ ریاستی وزیر ہریش راؤ قریبی حامی اور انتہائی بھروسہ مند سمجھنے جانے والے نرساپور میونسپل چیرمین نے بی جے پی میں شمولیت کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے ٹی آر ایس قیادت پر ناراضگی اور ٹی آر ایس قیادت کو مخالف بی سی قرار دیتے ہوئے الزامات عائد کرنے والے میونسپل چیرمین مرلی یادو نے ٹی آر ایس کو استعفیٰ دیدیا اور ایٹالہ راجندر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بی جے پی سے قریب ہوگئے اور امکان ہیکہ کل 9 اکٹوبر کو وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ اس کے علاوہ نرساپور کے اقلیتی قائد اور ایم آئی ایم کے ضلع صدر ریاض الدین نے بھی بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ نرساپور سرپنچ کی حیثیت سے دو مرتبہ اور نمائندہ سرپنچ کی حیثیت سے ایک مرتبہ کے علاوہ نمائندہ ضلع پریشد چیرپرسن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مرلی یادو کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) سے ہوا۔ نکسلائیٹ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے کے بعد آر ٹی سی کنڈکٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دیتے ہوئے آنجہانی وٹھل ریڈی کی قیادت میں پہلی مرتبہ سی پی آئی سے سرپنچ کامیاب ہوئے اور وقت کے ساتھ بدلتے حالات میں تلگودیشم میں شمولیت اور پھر اب ٹی آر ایس میں ہریش راؤ کے قریبی ساتھی ہونے کی شناخت بنالی تھی جنہوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا۔ مجلس اتحادالمسلمین سے ضلع صدر بنائے جانے والے ریاض الدین بھی بی جے پی کا دامن تھام چکے ہیں۔ مرلی یادو اور ریاض الدین کل تک سیاسی حریف جانے جاتے تھے جن میں بہت زیادہ آپسی خلوص پایا جاتا ہے۔ اب وہ ایک ہی کشتی کے سوار بن گئے ہیں حالانکہ مرلی یادو کی بی جے پی میں شمولیت سے نرساپور کے بی جے پی قائدین میں اندرونی مخالفت شروع ہوگئی ہے اور برسوں سے پارٹی بیانر کو تھامنے والے قائدین بھی مرلی یادو کی بی جے پی میں شمولیت سے خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں اور داخلی طور پر مخالفت شروع ہوچکی ہے جس کے منظرعام پر آنے کے امکانات ہیں جبکہ نرساپور حلقہ میں یہ بات بھی گشت کررہی ہیکہ ایک عرصہ تک ہریش راؤ کے ساتھ رہنے والے مرلی یادو کیلئے ٹی آر ایس کو چیلنج کرنے والا اقدام سیاسی مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ثابت ہوسکتا ہے چونکہ ہریش راؤ کی سیاسی سمجھ سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ع