مسائل حل نہ ہونے پر تحریک چلانے کی وارننگ، سی پی ایم کا شدید احتجاج
میدک، 11 جولائی:(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (سی پی ایم) کے ریاستی سیکریٹریٹ رکن چکّا رامولو نے الزام عائد کیا ہے کہ میدک کا ماں و طفل MOTHER AND CHILD صحت مرکز (مٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہیلتھ سنٹر) شدید بنیادی مسائل کا شکار ہے اور حکومت عوام کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔سی پی ایم ضلع کمیٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے ایک نمائندہ وفد نے ہفتہ کے روز مادر و طفل صحت مرکز کا دورہ کیا، جہاں مریضوں، ان کے تیمارداروں اور عملے سے ملاقات کرکے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر چکّا رامولو نے کہا کہ ضلع کے مرکزی سرکاری اسپتال میں ہی پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید کمی ہے، تو دیہی اور منڈل سطح کے اسپتالوں کی حالت کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ 300 سے 400 مریض علاج کے لیے اسپتال آتے ہیں، مگر انہیں پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔مزید کہا کہ اسپتال کے احاطے میں صفائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے، جھاڑیاں اور جنگلی پودے اگ آئے ہیں، جس کی وجہ سے سانپ اور بچھو رات کے وقت وارڈوں میں داخل ہو رہے ہیں اور مریض خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اسپتال تک جانے والے راستے پر روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مادر و طفل صحت مرکز کے تمام بنیادی مسائل فوری حل کیے جائیں، بصورت دیگر سی پی ایم عوام کو ساتھ لے کر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔اس موقع پر سی پی ایم کے ریاستی کمیٹی رکن ایم آڈیویّا، ضلع سکریٹری کے نرسمّا، ضلع سکریٹریٹ ارکان اے ملیشم، کے ملیشم، ضلع کمیٹی رکن جے سنتوش اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔