لکھنؤ: اترپردیش کے شہر میرٹھ میں میڈیکل کی 20 سالہ طالبہ نے ہم جماعت لڑکے کی طرف سے ہراساں کیے جانے پر خودکشی کرلی۔ وہ ویویکانند سبھارتی یونیورسٹی میں ڈینٹل سرجری کی سال دوئم کی طالبہ تھی۔پولیس کے مطابق ہم جماعت لڑکے نے طالبہ کو کلاس میں ہراساں کیا اور تھپڑ مارا تھا۔دیگر ہم جماعتوں کی شکایت پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ لڑکی نے ہراساں کرنے سے روکا تو ملزم نے اسے تھپڑ مارا، جس پر دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے کالج کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ طالبہ نے 19 اکتوبر کو خودکشی کی، اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی جبکہ ایک ٹانگ بھی شدید زخمی تھی۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 21 اکتوبر کو طالبہ اسپتال میں انتقال کرگئی۔ میڈیکل کالج کی طرف سے اس واقعہ پر اب تک کسی قسم کا بیان نہیں دیا گیا ہے۔ چھیڑ چھاڑ کی شکار ہونے والی طالبہ کا نام وانیہ شیخ ہے جو تقریباً 48 گھنٹے تک زندگی اور موت کے درمیان جھولتی رہی۔ ملزم طالب علم سدھانت پنوار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ اب سرخیوں میں آ گیا ہے اور اتر پردیش میں خواتین کی حالت پر سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔کالج انتظامیہ کی بڑی لاپروائی یہ سامنے آئی ہے کہ ملزم طالب علم کے خلاف شکایت ملنے کے باوجود کالج نے نہ تو کوئی سنجیدگی دکھائی اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔ وانیہ کے چوتھی منزل سے کودنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ یہ محض 2 سیکنڈ کی ویڈیو ہے جس میں وانیہ چوتھی منزل سے کودتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور نیچے موجود لوگ چیخ رہے ہیں۔ فی الحال ملزم طالب علم کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وانیہ خاندان میں اکلوتی لڑکی تھی۔ وانیہ کا بڑا بھائی انجینئر ہے اور چھوٹا بھائی ابھی درجہ 9 میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ وانیہ کے والد اسعد سمیع پراپرٹی ڈیلر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں قانون پر بھروسہ ہے، بیٹی کو انصاف ضرور ملے گا۔کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے اس واقعہ پر یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی حکمراں ریاست یوپی بیٹیوں کے لیے قبرگاہ بنتی جا رہی ہے۔