میناکشی نٹراجن کی سادگی سوشل میڈیا میں موضوع بحث

   

ہائی فائی کلچر سے دوری فائیو اسٹار ہوٹل کے بجائے گیسٹ ہاوز میں قیام، فلائیٹ کے بجائے ٹرین سے پہنچیں
حیدرآباد۔ یکم: مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس امور کی نئی انچارج میناکشی نٹراجن کی سادگی اب سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ ہر کوئی ان کی ستائش کررہے ہیں۔ آج کل سیاست میں ہر چھوٹا بڑا قائد اپنی پبلسٹی پر توجہ دیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اپنی تشہیر کے لئے خصوصی ٹیم تیار کرتے ہوئے اپنی خود کی تشہیر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ کارکردگی برائے نام ہونے کے باوجود اخباری اشتہارات، پوسٹرس، فلیکسی اور سوشل میڈیا میں اپنے آپ کو سوپر ہیرو کی طرح پیش کررہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر بہت سارے قائدین کا کوئی کیڈر بھی نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں یہ کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ مگر کانگریس میں کچھ زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ریاست کو جب بھی کوئی بھی پہلی انچارج بن کر آتے ہیں انکا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ایئرپورٹ سے گاندھی بھون کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر کانگریس کے قائدین بڑے بڑے قد آور فلیکسی اور پوسٹرس لگاتے ہوئے ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ گاندھی بھون میں بڑے پیمانے پر آتشبازی کی جاتی ہے۔ بیانڈ باجے بجائے جاتے ہیں، شہر کی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ان کے قیام و طعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔ بڑے گاڑیوں کے قافلے میں انہیں ریالی ی شکل میں گاندھی بھون پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم راہول گاندھی ٹیم میں شامل رہنے والی میناکشی نٹراجن نے پہلی مرتبہ حیدرآباد میں قدم رکھتے ہوئے ’’ہائی فائی کلچر‘‘ کا خاتمہ کردا ہے۔ وہ طیارے میں ایئرپورٹ نہیں پہنچیں بلکہ ٹرین سے کاچیگوڑہ ریلوے اسٹیشن پہنچیں۔ انہوں نے دہلی سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو پیغام پہنچا دیا تھا۔ ریلوے اسٹیشن پر ان کا استقبال بڑے پیمانے پر نہیں کیا جائے اور نہ ہی فلیکسی وغیرہ لگایا جائے۔ ٹرین کا ٹکٹ بھی وہ خود خریدار اور حیدرآباد میں فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرنے کے بجائے دلکش گیسٹ ہاوز میں قیام کیا اور روم کا کرایہ بھی خود ادا کیا۔ میناکشی این ایس یو آئی کی آل انڈیا صدر یوتھ کانگریس میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔ 2009 میں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے قومی کانگریس میں کئی عہدوں پر فائز ہوئی تاہم سادہ زندگی گذارنے کو ترجیح دیتی ہیں جس سے تلنگانہ کے کانگریس قائدین حیرت زدہ ہیں۔ 2