میوہ فروشوں کے چہرہ پر مسکراہٹیں

   

شب معراج اور مہاشیوا راتری کے موقع پر میوہ کی مانگ میں اضافہ
حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے بعد سے فروٹ مارکٹ میں اچھال نہیں دیکھا گیا تھا لیکن شب معراج اور مہاشیوراتری نے میوہ فروشوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے اور گڈی انارم میں میوہ فروشوں کی جانب سے میوہ کی خریدی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران میوہ کی فروخت کی ایسی رفتار اور مقدار نہیں دیکھی گئی تھی لیکن گذشتہ دو یوم کے دوران میوہ کے بازار میں زبردست اچھال ریکارڈ کیا جارہا ہے۔دونوں شہرو ںحیدرآبادو سکندرآباد میں شب معراج کے موقع پر روزہ رکھنے والوں کی بڑی تعداد ہے اور اس کے علاوہ مہاشیوراتری کے موقع پر اکثریتی طبقہ کی جانب سے بھی ورت رکھا جاتا ہے عام طور پر مہاشیوراتری کے موقع پر پھلوں کی قیمتو ں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ بازار میں کافی مقدار میں فروٹس کے پہنچنے کے سبب پھلوں کی قیمت میں کوئی بھاری اضافہ نہیں دیکھا جار ہاہے تاہم کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے بعد سے پہلی مرتبہ فروٹ مارکٹ میں اتنی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے ۔دونوں شہروں کے مختلف علاقوں مہدی پٹنم‘ نامپلی‘ بنجارہ ہلز‘ ٹولی چوکی ‘مادھاپور‘گچی باؤلی‘ چارمینار ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ افضل گنج ‘ نیاپل‘ ملک پیٹ ‘ دلسکھ نگر‘ سنتوش نگر‘ حافظ بابا نگر‘ چندرائن گٹہ ‘ فلک نما میں میوہ فروشوں کی بڑی تعداد عارضی طور پر سڑکوں کے دونوں جانب ہوا کرتی ہے تاکہ مہاشیو راتری کے موقع پر میوہ جات کی فروخت کے ذریعہ آمدنی حاصل کی جائے۔اس مرتبہ شب معراج اور مہاشیوراتری کے پیش نظر گڈی انارم فروٹ مارکٹ میں بھاری مقدار میں فروٹ اتارا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ یوم گڈی انارم فروٹ مارکٹ میں 6153 سیب کی پیٹھی اتاری گئی ہیں جبکہ 42ہزار865ڈبے انگور پہنچے ہیں۔207 ٹن سے زائد خربوزہ مارکٹ میں اتارا گیا ہے جبکہ 409 ڈبے آم گڈی انارم پہنچا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اتنی زیادہ مقدار میں ایک ہی دن میں پھلوں کے پہنچنے پر مارکٹ میں اچھال بھی دیکھا جارہا ہے اور لاک ڈاؤن کے بعد رمضان کے دوران بھی فروٹ مارکٹ کو سنگین حالات کا سامنا رہا لیکن توقع ہے کہ آج جو اچھال ریکارڈ کیا جا رہا ہے اس کا سلسلہ جاری رہے گا اور آئندہ مہینوں کے دوران بھی پھلوں کی فروخت کا سلسلہ جاری رہے گا۔