حیدرآباد کے علاوہ ورنگل، نظام آباد اور کھمم کی ترقی کے اقدامات، 675 کلو میٹر پر فیوچر سٹی کا قیام
حیدرآباد۔/19مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اسپیڈ SPEED اسکیم کے تحت 19 اہم پراجکٹس کی نشاندہی کی ہے جنہیں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی مساعی کی جائے گی۔ وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا نے آج اسمبلی میں بجٹ تقریر میں بلدی نظم و نسق کے تحت ریاست کی مجموعی ترقی کے اقدامات کا ذکر کیا۔ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ، میٹرو ریل توسیعی منصوبہ، ریجنل رنگ روڈ، دہلی میں تلنگانہ بھون اور عثمانیہ ہاسپٹل کی تعمیر جیسے پراجکٹس کو اسپیڈ کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ ملک میں تیزی سے شہری علاقوں میں ترقی کا مرکز بن چکا ہے۔ انفارمیشن ٹکنالوجی، انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور دیگر شعبہ جات تیزی سے توسیعی منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ ورنگل، نظام آباد، کھمم کو ترقی دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ورنگل میں ایجوکیشن ، ہیلت کیر اور آئی ٹی ہب قائم کئے جائیں گے جبکہ نظام آباد اور کھمم میں اگریکلچر سے مربوط صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے ایچ سٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 31 فلائی اوورس ، 17 انڈر پاس اور 10 سڑکوں کی توسیع کا منصوبہ ہے جس پر 7032 کروڑ خرچ ہوں گے۔ بیوٹیفکیشن پراجکٹس پر 150 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ نے 2024 میں کئی پراجکٹس کا آغاز کیا۔ 20 ایم ایل ڈی کے 4 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس عثمان ساگر و حمایت ساگر ذخائر آب پر تعمیر کئے جارہے ہیں تاکہ پانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے تحت عثمان ساگر اور حمایت ساگرمیں گوداوری کے پانی کو شامل کرتے ہوئے ان کا احیاء عمل میں آئے گا۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ آوٹر رنگ روڈ مرحلہ II آخری مراحل میں ہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں پانی کی سربراہی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5942 کروڑ کے مصارف سے حیدرآباد کیلئے انٹیگریٹیڈ اسٹرام واٹر ڈرینج پراجکٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ملک کی پہلی نیٹ زیرو فیوچر سٹی حیدرآباد کے قریب قائم کرے گی، فیوچر سٹی کا شمار دنیا کے ٹاپ شہروں میں ہوگا۔ سری سیلم اور ناگرجنا ساگر ہائی وے کے درمیان 765 مربع کلو میٹر پر فیوچر سٹی قائم کی جائے گی جو 50 مواضعات کا احاطہ کرے گی۔ فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ترقیاتی کاموں کو بہتر طور پر انجام دیا جاسکے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ حکومت کے اہم پراجکٹس میں آرٹیفیشل انٹلیجنس سٹی، فارما ہب، اسپورٹس سٹی اور کلین اِنرجی انوویشن زون شامل ہیں۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے پراجکٹس کیلئے بجٹ میں 17677 کروڑ مختص کئے گئے۔1