میٹرو ریل راہداریوں کی توسیع کے منصوبے فوری تیار کرنے چیف منسٹر کی ہدایت

,

   

٭ ایم جی بی ایس۔ فلک نما ۔ چندرائن گٹہ ۔ میلاردیو پلی روٹ شامل
٭ ناگول ‘ ایل بی نگر ‘ اویسی ہاسپٹل کی روٹ کا احاطہ بھی کیا جائے
٭ لکشمی گوڑہ ۔ جل پلی ۔ مامڑی پلی میں بھی امکانات کا جائزہ لیا جائے
٭ مذہبی و ہیرٹیج عمارتوں کو نقصان نہ پہونچانے کی حکام کو ہدایت
٭ ریونت ریڈی خود نگرانی کرینگے ‘ عوامی نمائندوں شامل کرنے کا فیصلہ

حیدرآباد 2 جنوری ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ میٹرو راہداریوں کی توسیع کے منصوبے فوری تیار کرتے ہوئے انہیں پیش کریں تاکہ ان کی منظوری کے بعد تعمیراتی کام شروع کئے جاسکیں۔ چیف منسٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حیدرآباد میٹرو ریل راہداری کی توسیع کیلئے خود نگرانی انجام دیں گے اور اس کے کاموں کیلئے پرانے شہر کے عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائیگا ۔ ریونت ریڈی نے میاں پور ۔ چندا نگر ۔ بی ایچ ای ایل ‘ ایم جی بی ایس ۔ فلک نما ۔ چندرائن گٹہ ۔ میلاردیو پلی روڈ ائرپورٹ ‘ ناگول ۔ ایل بی نگر ۔ اویسی ہاسپٹل ۔ چندرائن گٹہ ۔ میلاردیوپلی ۔ آرام گھر ۔ نئے ہائیکورٹ علاقہ راجندر نگر کے علاوہ راہداری تین کو رائے درگ اسٹیشن سے فینانشیل ڈسٹرکٹ ‘ ایل بی نگر ۔ ونستھلی پورم ۔ حیات نگر راہداری کی توسیع کے منصوبے تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری کیلئے جن 103 مذہبی ‘ ہیرٹیج اور دوسرے حساس مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے ان کو متاثر نہیں کیا جانا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ لکشمی گوڑہ ۔ جل پلی ۔ مامڑی پلی کی پٹی میں بھی میٹرو ریل گذارنے کے امکانات کا جائزہ لیں۔ میٹرو ریل کے مرحلہ سوام کے منصوبوں میں انہوں نے جے بی ایس میٹرو اسٹیشن سے شامیرپیٹ اور پیراڈائیز میٹرو اسٹیشن سے کنڈلا کویا میڑچل کا بھی احاطہ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ائرپورٹ علاقہ سے کندکور ( سری سیلم ہائی وی ) کو بھی میٹرو ریل سے مربوط کرنے کا منصوبہ بنایا جانا چاہئے ۔ کندکور میں ایک میگا ٹاؤنشپ بھی قائم کیا جاسکتا ہے جو فارماسٹی کیلئے محصلہ اراضیات پر تعمیر ہوسکتی ہے ۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد میٹرو ریل کی تبدیل شدہ راہداری پر کاموں کے آغاز پر عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا اور میٹرو ریل کی نئی راہداریوں پر منصوبہ جلد پیش کرنے ہدایات دی ہیں۔ اجلاس میں بلدی نظم ونسق‘ حیدرآبادمیٹروریل ‘ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی و بلدیہ کے عہدیدار موجود تھے ۔ اجلاس میں چیف منسٹر نے عہدیداروں سے اب تک کی پیشرفت پر آگہی حاصل کی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ ایم جی بی ایس تا شمس آباد ائیر پورٹ براہ پرانا شہر راہداری کی تیاری پر توجہ دی جائے اور فوری ابتدائی مرحلہ میں منصوبہ منظوری کیلئے پیش کیا جائے ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ اگر گنجان آبادیوں سے میٹرو ریل گذاری جاتی ہے تو اس کو منافع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ تبدیلی کے منصوبہ کو جلد مکمل کرکے حکومت کی منظوری حاصل کریں تاکہ تعمیراتی کاموں کے آغاز کو یقینی بناسکے۔ انہوں نے کہا کہ گچی باؤلی تا شمس آباد ائیر پورٹ میٹروریل راہداری کے ٹنڈرس کی تنسیخ کو غلط انداز میں پیش کرکے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ حکومت گنجان آبادیوں سے گذارنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے سابق حکومت کی جانب سے تیار منصوبہ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرکے کہا تھا کہ غیر آباد علاقوں میں رئیل اسٹیٹ کو فروغ دینے اور اراضی میں اضافہ کیلئے میٹرو راہداری کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور عوام کو کوئی سہولت حاصل نہیں ہوگی اسی لئے حکومت نے تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے جلد پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کاموں و توسیعی منصوبہ کے متعلق حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کا تیقن دیا۔3