ریاستی محکمہ فینانس اور کابینی منظوری کے بغیر معاہدہ پر دستخط قابل اعتراض
حیدرآباد۔ 24 جون (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل فیس 2 کیلئے انڈین ریلویز فینانس کارپوریشن (IRFC) کے ساتھ کئے گئے فنڈنگ معاہدے میں مبینہ بے قاعدگیوں اور مرکزی وزارت شہری اُمور کے شدید اعتراضات کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نیا زلزلہ آگیا ہے۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے اس معاملے پر کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے داسوجو شراون نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے تمام مالیاتی قوانین اور قواعد کے ساتھ دستوری حدود کو بالائے طاق رکھ کر یہ من مانی قدم اٹھایا ہے جس کی وجہ سے حیدرآباد کا سب سے اہم پراجیکٹ اب خطرے میں پڑ گیا ہے۔ داسوجو شراون نے سخت اعتراض کرتے ہوئے محکمہ فینانس اور کابینہ کی منظوری کے بغیر یہاں تک کہ مرکزی محکمہ شہری ترقی کی منظوری کے بغیر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اتنے بڑے مالیاتی معاہدے پر دستخط کیسے کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کیلئے متعلقہ محکموں کی کلیرنس قانوناً لازمی ہوتی ہے۔ بی آر ایس کے قائد نے انکشاف کیا کہ مرکزی وزارت شہری امور کے واضح قواعد ہے کہ میٹرو سے ہونے والی تمام آمدنی کو سب سے پہلے میٹرو کے آپریشنس اور روزمرہ کی دیکھ بھال کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے اور اس کے بعد ہی باقی رقم سے قرضوں کی ادائیگی کی جانی چاہئے تاکہ پراجیکٹ کا دیوالیہ نہ ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میٹرو کی آمدنی کا صحیح استعمال کے بجائے دوسری جگہوں پر منتقل کرنے اور قرض کا بوجھ ریاستی خزانے پر ڈالنے کی یہ کوشش دراصل عوام کے ٹیکس کے پیسے برباد کرنے کی ایک گہری سازش ہے۔ داسوجو شراون نے اس پورے معاملے پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے میٹرو پراجیکٹ کی اصل صورتحال سے عوام کو واقف کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔2 JM