مرکز کی منظوری کا انتظار، پارٹی کارکنوں کو سرکاری عہدوں میں نمائندگی : ریونت ریڈی
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے قومی تعلیمی پالیسی میں سہ لسانی فارمولہ کا جائزہ لینے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور سابق وزیر کے جانا ریڈی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ۔ یہ کمیٹی مختلف پارٹی قائدین کے ساتھ مشاورت کرکے قومی تعلیمی پالیسی پر موقف طے کریگی۔ چیف منسٹر کے مطابق سہ لسانی فارمولہ اور لوک سبھا حلقہ جات کی زمرہ بندی کے مسئلہ پر عنقریب کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائیگا جس میں مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ سے محروم قائدین کو نامزد عہدوں کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے تحت وجئے شانتی، شنکر نائک اور ادنکی دیاکر کو کونسل کیلئے منتخب کیا گیا ۔ حکومت نے 37 کارپوریشنوں کے صدورنشین کا انتخاب کیا ہے، اُن میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جنھوں نے پارٹی کی محاذی تنظیموں میں اہم خدمات انجام دی تھیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ پارٹی کیلئے طویل عرصہ کام کرنے والے کارکنوں کو سرکاری عہدوں میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے چینائی کیلئے میٹرو پراجکٹ کی منظوری میں اہم رول ادا کیا تھا لیکن مرکزی وزیر کشن ریڈی حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کیلئے مرکز سے فنڈس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ورلڈ بینک اور دیگر ادارہ موسی ریور ڈیولپمنٹ پراجکٹ و میٹرو پراجکٹ کیلئے قرض فراہم کرنے تیار ہیں لیکن مرکز سے منظوری نہیں دی گئی۔ 1